خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 470
خطبات ناصر جلد دہم ۴۷۰ خطبہ نکاح ۲۳ اگست ۱۹۶۹ء جائے۔اگر انہیں اس طرح دعا کرنے کی عادت پڑ جائے اور اس کے نیک اثرات سے لطف اندوز ہونے کی سعادت نصیب ہونے لگے تو انہیں اس بات کا بے حد افسوس ہوگا کہ ہم نے کتنا وقت ضائع کیا۔ہم زندگی کے کتنے ہی لمحے بغیر کام کا وقت ہرج کئے یا بغیر ایک دھیلا خرچ کئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس کی یاد میں گزار سکتے تھے۔جو آدمی خود موٹر چلا رہا ہے اس کو بہر حال حکم ہے کہ دوسرے کی جان نہیں لینی اس لئے چوکس ہو کر موٹر چلا ؤ لیکن بعض ایسے دعائیہ فقرے ہیں کہ اگر آدمی ان کا ورد کرتا رہے تو وہ چوکس بھی رہ سکتا ہے مثلاً خود موٹر چلانے کے وقت کی اور اس قسم کے سفر کی مختلف دعائیں ہیں ان میں ایک تو بِسمِ اللهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (هود: ۴۲) کی دعا ہے۔پھر سُبْحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ (الزخرف: ۱۴) بھی سفر کی دعا ہے۔اور اس موقع پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی ہے جس کو میں مرکب دعا کہا کرتا ہوں یعنی بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ یہ بھی سفر کی ایک دعا ہے اور بڑی ہی عجیب دعا ہے۔میں پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں کہ ایک دفعہ جب کہ فرقان بٹالین ابھی اپنے میں کیمپ Base Camp) ہی میں تھی اور مجھے اس بٹالین کے سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے بعض اہم کام سپر د تھے۔میں اپنی چھوٹی سی کار ولز لئے، جس نے بڑی وفا کی ہے اور جواب تک میرے پاس پڑی ہے اس میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ وہاں گیا ہوا تھا۔وہاں چند دن کے قیام کے دوران میں بارش ہوگئی اور گجرات کے قریب سے سڑک کٹ گئی۔مجھے چونکہ لاہور میں بعض ضروری امور کے لئے جلد واپس آنا تھا دوستوں سے مشورہ کیا اور طے پایا کہ ہیڈ رسول سے ہوتے ہوئے نہر کے کنارے کنارے جا کر آگے گنجاہ کے پاس سے گجرات جانے والی سڑک کو اختیار کریں۔چنانچہ ہم اس راستے پر چل پڑے۔ہیڈ رسول کا پھاٹک بند تھا۔وہاں ہمیں لازماً موٹر کھڑی کرنی پڑی۔پھاٹک کھلوایا تو کار چلنے سے رک گئی۔ساتھیوں نے بڑے دھکے لگائے مگر یہ سٹارٹ نہ ہوئی۔اس وقت بھی مجھے اس دعا کے پڑھنے کی تفہیم ہوئی اور میں نے سمجھا