خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 468 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 468

خطبات ناصر جلد دہم ۴۶۸ خطبہ نکاح ۲۳ را گست ۱۹۶۹ ء بندہ اپنی ساری عمر اسی طرح خالی ہاتھ گزار دیتا ہے اس کے پاس خدا کے ارادے اور مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ گھر سے تو کچھ نہ لائے تھے۔پس اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے اور وہی دے تو ملتا ہے اور وہی پاس رہنے دے تو پاس رہتا ہے ورنہ چھن جاتا ہے۔اس لئے ہمیں بڑی سختی سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے مقام اور اپنی حیثیت کو سمجھو۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جوتی کے تسمے کی بھی ضرورت ہو تو وہ بھی اپنے رب سے مانگو اس کے یہی معنے ہیں کہ اس وقت دماغ میں یہ نہیں آنا چاہیے کہ ایک آنے کا تو تسمہ ہے۔معمولی سی چیز ہے اس کو میں بازار سے جا کر لے آؤں گا کیونکہ اس ایک آنے اور تسمہ کی خرید میں ہزار حوادث پیش آسکتے ہیں۔ہوسکتا ہے بغیر تسمہ کے بوٹ میں اس کی وفات ہو جائے۔غرض بوٹ کے تسمہ جیسی معمولی سے معمولی چیز بھی اپنے رب سے مانگنی چاہیے۔پس دعا جو ہے وہ دراصل مانگنا ہی ہے۔اسی لئے اسلام نے ہر وقت ذکر اور دعا کرنے پر بڑا زور دیا ہے۔لیکن چونکہ انسان کمزور ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا رحم کرنے والا ہے۔اس لئے وہ اس کی بہت ساری غفلتوں کو معاف کر دیتا ہے۔اور جتنی کوئی دعا کر لے وہ اس کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) کہہ کہ میں نے اپنے بندے سے دعا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی تھی۔اس نے دعا کرنے میں اپنی عقل استعمال کی کیونکہ میری وضاحت نہیں تھی اس لئے دعا کرنے میں فروگذاشت کو معاف کر دیتا ہوں۔دعا کرنے کا تعلق دراصل مال و دولت کے حصول سے نہیں۔یہ جو روز ہم دو گھنٹے یا پانچ دس گھنٹے دعا کرتے ہیں یہ اس لئے نہیں کرتے کہ ہمارے پاس ہزار روپیہ نہیں اور یہ ہمیں مل جائے۔ایسی دعا کرنا سراسر غیر معقول بات ہے۔نماز کی دعا کہ وہ مقررہ اوقات میں پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ کی جاتی ہے۔یہ اور بات ہے اس کے علاوہ دعا کرنے کے عموماً وقت بھی خرچ اس معنے