خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 457 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 457

خطبات ناصر جلد دہم ۴۵۷ خطبہ نکاح ۵ رمئی ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارا مقصد ہونا چاہیے خطبہ نکاح فرموده ۵ رمئی ۱۹۶۹ ء بمقام ربوه حضور انور نے بعد نماز ظہر محترمہ شاہین قیصر صاحبہ بنت مکرم مرزا اعظم بیگ صاحب ساکن ربوہ کے نکاح کا مکرم مرزا محمود احمد صاحب ابن مکرم مرز امحمد شفیع صاحب حال فرینکفورٹ جرمنی سے بعوض آٹھ ہزار روپے حق مہر اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نکاح کے ذریعے جو رشتے باندھے جاتے ہیں۔یہ رشتے بڑے ہی نازک ہوتے ہیں اور ان رشتوں کو پختہ اور مستحکم بنانے کی ذمہ واری صرف خاوند اور بیوی پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی ذمہ داری ہر دو خاندانوں اور ان کے عزیز واقارب پر بھی ہوتی ہے۔اگر برادری میں رشتہ ہو تو بہت سی پرانی رنجشوں کو بھلانا پڑتا ہے تب رشتہ میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔اگر برادری نہ ہوتو ایسے دوخاندانوں میں جن کا آپس میں پہلے کوئی قرابت کا تعلق نہیں اجنبیت ایک طبعی چیز ہے۔اس اجنبیت کو دور ا پڑتا ہے۔وہ جو پہلے بیگانے تھے اب لگانے بن جاتے ہیں۔اس کے لئے بہر حال کوشش کرنی پڑتی ہے اور کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے پھر سے احمدیت کی برادری کو اسلامی اخوت کی بنیادوں پر اس طرح قائم کیا ہے کہ ہماری جماعت کی اکثر شادیاں آپس میں نئے ازدواجی رشتوں کرنا :