خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 458

خطبات ناصر جلد دہم ۴۵۸ خطبہ نکاح ۵ رمئی ۱۹۶۹ء کو قائم کرتی ہیں۔خاندانوں میں پہلے قرابت داری کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔احمدیت کا رشتہ اگر ہم اسے سمجھیں دنیا کی سب قرابتوں سے بالا اور ارفع اور مضبوط تر ہے۔اگر نہ سمجھیں تو یہ ہماری بدقسمتی ہے اور ہمارے لئے دکھ کا باعث بن سکتی ہے۔جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں۔یہ بھی دو ایسے خاندانوں میں رار پایا ہے جن کا آپس میں قرابت داری کا پہلے کوئی تعلق نہیں اور ہر دو خاندانوں کے دل میں طبعاً یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ پہلے بیگانگی تھی ، اجنبیت تھی۔دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔انہیں یا درکھنا چاہیے کہ ہوتا تو وہی ہے جو خدا چاہتا ہے اور خدا یہ چاہتا ہے کہ ہمارے آپس کے ازدواجی تعلقات اس طرح پر قائم ہوں کہ ان کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لے۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔خَيْرُ كُمْ خَيْرُ كُمْ لِأَهْلِهِ۔یہ خَیرُ كُمْ لاَھلِے میں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہیں اچھا اور نیک مقام حاصل ہوگا اگر تم ازدواجی رشتوں کے حقوق ادا کرو گے۔یہ تعلقات تو دنیوی ہیں۔غیر مسلم اور دہر یہ بھی اس قسم کے تعلقات کو قائم کرتے ہیں لیکن ہم پر اسلام کی یہ نعمت اور احسان ہے کہ ان دنیوی تعلقات کو اور ان دنیوی رشتوں کو نباہنے کے لئے اگر ہم یہ نیت رکھیں کہ ہم آپس میں اچھے تعلقات قائم کریں گے اور ان حقوق کی پوری طرح حفاظت کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان رشتوں کے متعلق قائم کئے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہوگا۔اگر اس نیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں کو نبا ہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں تعلقات خوشگوار ہو ہی جائیں گے لیکن وہ اصل مقصد بھی حاصل ہو جائے گا۔یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول جس کی خاطر اور جس نیت کے ساتھ انسان آپس کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ، بہتر رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کا خیال رکھتا اور اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کی حفاظت کرتا اور ان کو نباہتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو بھی اور ( دعا کرتے وقت وسعت پیدا ہونی چاہیے ) ہر احمدی گھرانے کے رشتوں کو بھی بابرکت بنائے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کی یہ بھی ایک راہ ان پر کھلے جس