خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 24 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 24

خطبات ناصر جلد دہم ۲۴ خطبہ عیدالفطر ۲۲؍دسمبر ۱۹۶۸ء کی نگاہ دنیا ہی میں محو اور کھوئی ہوئی تھی اور اس سے آگے نہ نکل سکی تھی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کس قسم کا مطالبہ کر رہے ہو۔خدا کا تقویٰ اختیار کرو۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کھائیں اور دنیا کے انعامات کے حصول سے ہمارے دل مطمئن ہوجائیں۔تب تیری صداقت پر ہمارے دلوں میں پختہ یقین پیدا ہوگا۔اگر تیری بعثت کے بعد ہمیں اس دنیا میں صرف دکھ ہی ملتے ہیں آرام نہیں ملنا تو پھر تجھ پر ایمان لانے کا کیا فائدہ۔حضرت مسیح علیہ السلام نے ان کی کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اور ان کے دلوں میں حقیقی اطمینان پیدا کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ رَبَّنَا انْزِلُ عَلَيْنَا مَا بِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ اے ہمارے رب تو اپنے فضل سے اپنے رحم سے ہمارے لئے آسمان سے مائدہ کے نزول کا انتظام کر۔حواریوں نے مائدہ کا لفظ صرف دنیوی رزق کے لئے استعمال کیا تھا لیکن مائدہ کا لفظ عربی زبان میں جسمانی غذا اور روحانی غذا ہر دو کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے مقرب رسول تھے۔اس لئے انہوں نے اپنے رب کے حضور یہ عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم روحانی طور پر بڑی کمزور ہے تو اس پر فضل کر اور اس کے لئے جسمانی رزق کے سامان بھی پیدا کر اور روحانی غذا کے سامان بھی پیدا کر اور چونکہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ کامل اور مکمل شریعت والا خاتم النبین ایک ارفع اور اعلیٰ مقام کے حصول کے بعد حقیقی اور کامل ہدایت لے کر آنے والا ہے۔اس لئے انہوں نے دعا کی کہ وہ روحانی رزق اترے کہ جو ہم لوگوں کے لئے بھی عید کا اور مسرت کا باعث ہو اور ہمارے بعد میں آنے والی نسلیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پائیں ان کے لئے بھی وہ جسمانی اور دنیوی، روحانی اور اخروی خوشی اور مسرت کا سامان پیدا کر دے۔انہوں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ تو اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا کر کیونکہ جو چیز تیری طرف سے عطا ہوتی ہے وہ دنیوی لحاظ سے بھی اور اخروی لحاظ سے بھی سب سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں تمہاری دعا تو قبول کرتا ہوں اور یہ مائدہ جو مانگا گیا ہے۔ایک محدود شکل میں تیرے ذریعہ میں اتاروں گا اور ایک کامل صداقت کے رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاروں گا لیکن اپنے ماننے والوں کو یہ تنبیہ کر دو