خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 418 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 418

خطبات ناصر جلد دہم ۴۱۸ خطبہ نکاح ۱۲ راگست ۱۹۶۸ء بیچاری بچی کے باپ احمدی نہیں کسی زمانہ میں ان کا رشتہ احمدی سے ہو گیا تھا۔اس کی ماں احمدی ہے۔میں نے کہا اگر دکھاوا کرنا ہے تو پھر پچاس ہزار نہیں مہر دس لاکھ مقرر کر دیتے ہیں یہ دکھا وا آپ کا بڑا اچھا ہو جائے گا۔آپ لکھ دیں کہ سب دکھاوا ہے اور لڑکی پہلے ہی لکھ دے کہ میں نے مہر معاف کیا۔دس ہزار معاف نہیں کیا باقی سب معاف کر دیا۔تو اس قسم کے گندے خیالات جو ہیں وہ بعض لوگوں کے دماغ میں پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔شادی کے اوپر یہ دیا یہ نہیں دیا یوں کرنا چاہیے تھا۔یہ نہیں سوچتے کہ بیٹی والوں نے اپنے گھر کی سب سے قیمتی چیز خاوند کے گھر بھیج دی اور وہ بیٹی ہے۔ایک انسان سے زیادہ تو دنیا کی کوئی چیز قیمتی نہیں ہوسکتی۔لڑکے والوں نے اپنا لڑکا دے دیا۔اس گھر میں اس لڑکے سے زیادہ اور کون سی قیمتی چیز ہو سکتی ہے تو سب سے زیادہ قیمتی چیز لی بھی اور دی بھی اور پھر ان بیہودہ باتوں کی طرف خیال کرنے لگ گئے اس سے برکت نہیں رہتی۔اس سے اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اس کے نتیجہ میں ازدواجی زندگی خوش گوار ہر گز نہیں رہ سکتی۔بیبیوں گھروں کے تعلقات ان چھوٹی چھوٹی لیکن نہایت بیہودہ بدرسموں پر ہم نے ٹوٹتے دیکھے ہیں ان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔اس مہم کا میں نے اعلان کیا تھا رسوم اور رواج کے خلاف ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ بہت سے لوگوں نے تھوڑے کو بہت سمجھا اور ان چیزوں سے بچنے کی کوشش کی۔بہتوں نے بہت کو تھوڑا سمجھا اور ان کو زیادہ جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔اپنے وقت پر انشاء اللہ تعالیٰ اس کی توفیق سے یہ بھی ہو جائے گا جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں لڑکے کو دولہا کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور پچھلے یورپ کے دورہ میں ان کو زیادہ سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا کیونکہ وہ وہیں ہوتے ہیں۔ہمارے ڈاکٹر سلام صاحب کے چھوٹے بھائی۔بڑے سادہ مزاج ، بڑے اچھے، بڑے مخلص ، احمدیت کے فدائی اور تبلیغ کا انہیں بڑا جوش ہے۔ان کے خط آتے رہتے ہیں وہ کسی نہ کسی کو پکڑ کر ضرور تبلیغ کرتے ہیں کتا بیں دیتے ہیں پڑھاتے ہیں اور پھر چھوڑ نہیں دیتے کیونکہ مذہب کو تبدیل کرنا حقیقتاً اس سے زیادہ وسعتوں والا اور زیادہ اثر والا ہے جتنا ایٹم کا پھٹ جانا۔یہ معمولی بات نہیں ہے سارے ماحول کو چھوڑ کے، اپنے جہاں پیدا