خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 363 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 363

خطبات ناصر جلد دہم ۳۶۳ خطبہ نکاح ۹ را کتوبر ۱۹۶۷ء اسلام کو بڑی کثرت سے فدائی اور جاں نثار خادموں کی ضرورت ہے خطبہ نکاح فرموده ۹ /اکتوبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب مندرجہ دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱- بشری صاحبہ بنت مکرم ملک حبیب الرحمان صاحب ربوہ ہمراہ مکرم محمد کریم صاحب ابن محترم مولوی محمد شفیع صاحب مرحوم ننکانہ ضلع شیخو پورہ بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ مہر۔۲۔قدسیہ پروین صاحبہ بنت مکرم خان عطاء الرحمن صاحب کرشن نگر لاہور ہمراہ مکرم ملک عبدالرحیم صاحب ابن مکرم ملک حبیب الرحمان صاحب ربوہ بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔مستقبل قریب میں اسلام کو بڑی کثرت کے ساتھ فدائی اور جاں نثار خادموں کی ضرورت پڑنے والی ہے۔اگر ہمارے عزیز بچے اور عزیز بچیاں اس نیت اور دعا کے ساتھ اپنے ازدواجی رشتوں کو قائم کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ ایسی نسل پیدا کرے جو وقت کے تقاضہ اور اسلام کی ضرورت کو پورا کرنے والی ہو۔تو اللہ تعالیٰ ایسے رشتوں میں بڑی برکت ڈالے گا۔اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔دونوں نکاحوں ( یعنی مکرم ملک حبیب الرحمان صاحب کی صاحبزادی اور صاحبزادہ کے )