خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 349
خطبات ناصر جلد دہم ۳۴۹ خطبہ نکاح ۱۹ مارچ ۱۹۶۷ء ہماری اولا دفیض ہی فیض ، برکت ہی برکت رحمت ہی رحمت اور نور ہی نور والی ہو خطبہ نکاح فرموده ۱۹ مارچ ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک ربوہ ۱۹ مارچ ۱۹۶۷ء کو بعد نماز عصر حضور انور نے از راہ شفقت مندرجہ ذیل تین نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔پیدا ہونے والے بچے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جن کے متعلق موجودہ نسل یہ بجھتی ہے کہ ہمارا کھانا پینا پیدا ہونے والے بچے کھا جائیں گے۔ان کو روک دیا جائے یا اگلی نسل فتنہ وفساد پھیلانے والی، قتل و غارت کا ارتکاب کرنے والی، دوسروں کے حقوق غصب کرنے والی اور دوسروں کی آزادیاں چھیننے والی ہوگی اور ہماری تباہی کا موجب ہوگی۔ایک تو اس قسم کے بچے ہیں۔تو ان کو روک دیا جائے۔دوسری قسم کے بچے وہ ہیں کہ جب وہ دنیا میں آتے ہیں تو وہ والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ، خاندان کے ہمدرد ، دوسرے لوگوں کے خیر خواہ ، اپنے مال کو اپنوں پر خرچ کرنے والے، ان کا خیال رکھنے والے، ان کو ترقی کی راہوں پر چلانے والے، ان کی رہبری کرنے والے اور دوسروں کے معلم اور استاد بننے والے ہوتے ہیں۔جہاں شادی کے اور مقصد بھی ہیں ، وہاں ایک مقصد یہ بھی ہے کہ نسل کی بقا کا انتظام کیا جائے۔