خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 331 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 331

خطبات ناصر جلد دہم ۳۳۱ خطبہ نکاح ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تین نسلوں کو مخاطب کیا گیا ہے چنا نچہ پہلی بار جب یہ الہام ۲۲ جنوری ۱۹۰۷ء کو ہوا تو اس کے الفاظ جو میں نے ابھی پڑھے ہیں یہ ہیں۔إنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ان الفاظ کے ساتھ کوئی الہامی تشریح نہیں پائی جاتی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی پہلی نسل جو اس الہام کی مخاطب ہے اسے اللہ تعالیٰ اس الہام کا مطلب خود سمجھائے گا اور اس الہام کے نتیجہ میں جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں اور جن امتحانوں اور جن قربانیوں میں سے انہیں گزرنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ انہیں ان کا علم دے گا اور انہیں ایسی عقل اور فراست دے گا اور ایسی ہمت جرات اور اولوالعزمی عطا کرے گا کہ وہ ان ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھا سکیں گے۔دوسری بار یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ۲ مارچ ۱۹۰۷ء کو ہوا تو حضور نے اس کے متعلق تو یہ فرمایا۔دو تفہیم یہ ہوئی کہ اے اہل خانہ خدا تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے تا معلوم ہو کہ اس کے ارادوں پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں اور تاوہ اے اہل بیت تمہیں پاک کرے جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا “ گویا یہاں اس الہام کا یہ مفہوم بتایا گیا کہ تمہیں جب یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری نا پا کی اور تمہاری گندگی کو دور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس کی خاطر بہت سی قربانیاں دینی پڑیں گی۔تمہیں بہت سی قربانیوں کے امتحانوں اور ابتلاؤں میں سے گزرنا پڑے گا اور تمہیں ان امتحانوں کو بشاشت کے ساتھ قبول کرنا پڑے گا۔جس سے یہ معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ تمہیں آزمانے اور تمہیں آزمائش میں ڈالنے اور تمہارا امتحان لینے کا تھا اس کو تم سمجھتے ہو اور اس کے مطابق تم اپنی زندگی گزارنے کے لئے تیار ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ خوشخبری دی ہے۔اے اہل بیت کہ وہ تم کو پاک کرے گا جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس تاریخ کو اس الہام کی تشریح میں کچھ اور