خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 330
خطبات ناصر جلد دہم ۳۳۰ خطبہ نکاح ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی اولاد کے متعلق دعاؤں کا ہمیں پتہ لگتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی تھی۔کہ آپ کی پہلی نسل جسے آپ نے ”پنج تن اور نسل سیدہ کا نام بھی دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی ان ذمہ داریوں کو سمجھے گی۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ان پر عائد ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا فرمائے گا کہ وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو کما حقہ نبھائیں گی۔اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ پاک اور مطھر قرار دی جائیگی۔دوسری نسل میں سے بعض کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے الہاموں میں یہ خوشخبری دی ہے کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے عطر سے ممسوح کی جائیگی لیکن یہ کہ دوسری نسل میں پیدا ہونے والی ساری کی ساری اولاد کے متعلق اس قسم کی خوشخبری ہو۔میرے علم میں نہیں اور غالباً اس قسم کی خوشخبری نہیں پائی جاتی۔تیسری نسل بھی میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام میں مخاطب ہے کہ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهْرَكُمْ تَطْهِيرًا - یعنی اللہ تعالیٰ نے یہی ارادہ کیا ہے کہ وہ اے اہل بیت تم سے ناپاکی کو دور کرے۔اور تم کو پاک کرے اور مطھر بنائے یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تین بار ہوا ہے پہلی دفعہ یہ الہام آپ کو ۲۲ جنوری ۱۹۰۷ء کو ہوا دوسری بار ۲ / مارچ ۱۹۰۷ء کو ہوا اور تیسری بار ۱۳ / مارچ ۱۹۰۷ ء کو ہوا۔اس کے بعد میں نے تذکرہ میں تلاش کیا ہے ان لفاظ میں چوتھی بار یہ الہام مجھے نظر نہیں آیا۔تیسری بارجو یہ الہام ہوا اس کے نیچے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قلم سے یہ تحریر فرمایا ہے۔یہ تیسری مرتبہ الہام ہے۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالضَّوَابِ یہ الفاظ پڑھ کر میری توجہ اس طرف پھری ہے کہ تین بار جو الہام ہوا ہے اس میں