خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 324

خطبات ناصر جلد دہم ۳۲۴ خطبہ نکاح ۲۹ /اکتوبر ۱۹۶۶ء ہم ان کے حقوق ادا کر سکیں۔اللہ تعالیٰ بہتر سامان پیدا کرے۔یہ نکاح خواجہ عبد الستار صاحب درویش قادیان) کی لڑکی بشری بیگم کا ہے جو خواجہ جمیل احمد صاحب پسر خواجہ عبدالحمید صاحب کارکن نظارت امور عامہ ربوہ کے ہمراہ مبلغ ایک ہزار مہر پر قرار پایا ہے۔دوسرا نکاح عزیزه قانتہ شاہدہ بنت قاضی محمد رشید صاحب مرحوم کا ہے جو کرم عطاء المجیب صاحب را شد ایم۔اے سے جو مولانا ابوالعطاء صاحب کے فرزند ہیں ایک ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔عزیزہ قانتہ شاہدہ نے ایم۔اے کا متحان دیا ہوا ہے اور بہت ہوشیار طالبہ علم ہے۔امید ہے کہ وہ اس امتحان میں اچھے نمبروں پہ کامیاب ہو جائے اور شاید یونیورسٹی میں فرسٹ آجائے۔اللہ تعالیٰ اسے تعصب کے شر سے محفوظ رکھے۔ه ان تیسرا نکاح عزیزہ امتہ الحمید بنت مکرم فتح دین صاحب چیف انسپکٹر بیت المال کا ہے جو نعیم الرحمان صاحب طارق پسر مکرم مولوی عبد الرحمان صاحب انور سے دو ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔مکرم فتح دین صاحب اس وقت وقف عارضی کے سلسلہ میں ربوہ سے باہر ہیں انہوں نے اپنی طرف سے اور عزیزہ امتہ الحمید کی طرف سے مکرم محمد احمد صاحب بھٹی کو وکیل مقر ر کیا ہے نعیم الرحمان صاحب طارق بھی اس وقت موجود نہیں انہوں نے اپنے والد مولوی عبد الرحمان صاحب کو اپنی طرف سے وکیل مقر ر کیا ہے۔چوتھا نکاح بشری شاہین صاحبہ بنت چوہدری عبد اللطیف صاحب آف ملتان کا ہے جو شیخ لطیف احمد صاحب پسر شیخ احمد علی صاحب ریٹائر ڈ اسٹیشن ماسٹر حال راولپنڈی سے دس ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔پانچواں نکاح عزیزہ صفیہ لطیف بنت چوہدری عبد اللطیف آف ملتان کا ہے جو منور احمد صاحب سعید ایم اے پسر مکرم میاں روشن دین صاحب زرگر سے پندرہ ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے منور احمد صاحب سعید امریکہ میں ہیں انہوں نے اپنے والد مکرم میاں روشن دین صاحب زرگر کو اپنی طرف سے وکیل مقر ر کیا ہے۔چھٹا نکاح سیدہ رشیدہ کشور صاحبہ بنت سید عبدالرشید صاحب آف کوئٹہ کا ہے جو مکرم بشیر احمد صاحب