خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 318
خطبات ناصر جلد دہم ۳۱۸ خطبہ نکاح ۱۷ اگست ۱۹۶۶ء طاقت کے استعمال کو جائز اور ضروری سمجھا گیا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ معجزہ دکھایا تھا کہ اس تلوار کو جو اسلام کے خلاف نیام سے نکالی گئی تھی تلوار ہی کے ذریعہ توڑ دیا گیا۔اسے بے اثر کر دیا گیا اور دشمن اپنے ارادہ میں ناکام و نامراد ہوا۔اس وقت کی دنیا میں اسلام نے ایک بین الاقوامی برادری قائم کی۔اس وقت بڑی کثرت سے ایک ملک کے رہنے والوں کے رشتے دوسرے ملک کے رہنے والوں سے ہوتے تھے اور یہ نہیں ہوتا تھا کہ ملک عرب کا رہنے والا مرد عرب کی لڑکی سے ہی شادی کرے اور مصر کا رہنے والا مصری لڑکی سے ہی ازدواج کا تعلق قائم کرے۔بلکہ اسلام نے مختلف نسلوں کو باہم ملا دیا اور اس طرح ثابت کردیا کہ انسان انسان اور ملک ملک میں جو فرق پایا جاتا ہے۔رنگوں اور نسلوں میں جو فرق پایا جاتا ہے اس کی اور ان دوسرے امتیازوں کی جو اسلام سے پہلے دنیا میں موجود تھے کوئی حیثیت نہیں۔انسان جہاں بھی ہو انسان ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اسلامی شریعت اور برادری میں کسی انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے دوسرے انسان پر کوئی امتیاز حاصل نہیں لیکن دنیا نے اس تعلیم کا کامل نمونہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں دیکھنا تھا جس کی اب ابتدا ہوئی ہے اور جماعت احمدیہ کے ذریعے ذاتی جذبات کے نتیجہ میں نہیں۔محض اخوت اور اسلامی برادری کی وجہ سے ایک ملک کے رشتے دوسرے ملک میں ہونے لگے ہیں۔ویسے تو دنیا میں ہزاروں لاکھوں رشتے ایسے ہوتے ہیں جو ایک ملک کے دوسرے ملک میں ہوتے ہیں مگر ان رشتوں کے پیچھے محض ذاتی جذبات ہوتے ہیں اس لئے وہ مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے۔ہمارے اس عزیز (رفیق چانن صاحب) کا رشتہ بھی انگلستان میں ہوا تھا لیکن وہ رشتہ محض جذبات کے نتیجہ میں قائم ہوا تھا اس لئے وہ مضبوط بنیاد پر قائم نہیں تھا کیونکہ جذبات عارضی چیزیں ہیں جب وہ تبدیل ہو گئے تو وہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا۔اب ان کا دوسرا رشتہ پاکستان میں ہو رہا ہے جو محض ذاتی جذبات کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اسلامی برادری کے تعلق اور اس کے پیچھے کام کرنے والی روح کے نتیجہ میں ہو رہا ہے۔ایک طرف جہاں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی تعلیم کا یہ حصہ بھی عملی شکل میں ظاہر ہورہا ہے۔