خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 314

خطبات ناصر جلد دہم ۳۱۴ خطبہ نکاح ۱۶ اگست ۱۹۶۶ء خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تفسیر کو سنو گے اور ان علوم سے حصہ وافر لینے کی کوشش کرو گے جو اس زمانہ کا امام خدا تعالیٰ سے حاصل کر کے تم تک پہنچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا کہ رحمتوں کے وہ دروازے جو اس زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کھولنا چاہتا ہے۔وہ دروازے تمہارے لئے بھی کھولے جائیں گے اور تم اس کی رحمتوں سے حصہ لینے والے ہو گے۔چوتھی چیز اس تسلسل میں یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس پر عمل ہونا چاہیے۔خالی آواز کا سن لینا اور اس کا چسکہ حاصل کر لینا قرآن کریم کی غرض نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہے بلکہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ انسان وہ اعمال بجالائے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صالحہ ہوں۔اس وقت دنیا کے سارے اموال، ساری وجاہتیں اور اثر و رسوخ اور دنیا کی ساری تہذیبیں اور دنیا کی تمام رسوم اور عادات اور خواہشات اکٹھی ہو کر اس کوشش میں ہیں کہ وہ کسی کو بھی اسلام کے بتائے ہوئے راستہ پر ٹھہرانہ رہنے دیں ایک عظیم کشمکش ہے جو ایک طرف بہت بڑی طاقتوں اور دوسری طرف ایک چھوٹی سی جماعت میں جاری ہے۔ظاہری سامانوں کو دیکھتے ہوئے۔ظاہری حالات کے پیش نظر تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ دعوی کر سکیں کہ یہ چھوٹی سی جماعت سب دنیوی طاقتوں اور دنیا کے دجل اور دنیا کے اقتدار اور دنیا کے اموال کے مقابلہ میں کامیاب ہو جائے گی لیکن خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے ہو کر رہتا ہے اور اس نے یہی کہا ہے کہ اس عظیم کشمکش یا اس عظیم جنگ میں جو دجل اور حقانیت اور صداقت کے درمیان لڑی جارہی ہے۔یہ چھوٹی سی جماعت ہی کامیاب ہوگی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدے کئے ہیں اپنے وقت پر پورے ہوں گے اور وہ وقت کوئی زیادہ دور نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ آج کل جو نکاحوں کے رشتے قائم کئے جار ہے ہیں ان سے جو نسل چلے گی وہ ابھی ادھیڑ عمر تک نہ پہنچی ہوگی کہ وہ یہ نظارہ دیکھے گی کہ بظا ہر ساری دنیا کی طاقتیں جس چھوٹی سی طاقت کو مٹانے کے درپے تھیں وہ طاقتیں خود تباہ ہوگئیں اور یہ چھوٹی سی نظر آنے والی طاقت ساری دنیا کی طاقتوں پر غالب آگئی۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے سامنے دو راستے ہی ہیں جن میں سے ایک کو ہم اختیار کر سکتے ہیں۔