خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 308

خطبات ناصر جلد دہم ۳۰۸ خطبہ نکاح ۱۰ راگست ۱۹۶۶ء فرمایا:۔چونکہ قوام اور مؤثر ہونے کا مقام تمہیں عطا کیا گیا ہے۔اس لئے ہم تمہیں کہتے ہیں کہ تم اپنی ذمہ داری کو اسی وقت نبھانے والے ہو گے جب وہ عورتیں جو تمہارے اثر کے نیچے ہیں الصلحت ہوں، قانتات ہوں ، حافظات للغیب ہوں۔اگر تمہارے اثر کے نیچے آنے والی عورت صالحہ نہیں۔اگر وہ قانتہ نہیں۔اگر وہ غیب کی حفاظت کرنے والی نہیں تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ تم پر جو قوام کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی تم نے اسے نبھا یا نہیں اور اس کے لئے تم ہمارے سامنے جواب دہ ہو گے۔اس لئے ڈرتے ڈرتے اور بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی زندگی کو گزارو تا اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہو اور اس کی نعمتوں اور اس کے فضلوں اور اس کی برکات کو حاصل کرنے والے ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے ان تمام برکات اور نعمتوں کا وارث بنائے جن کا تعلق قرآن کریم کے ساتھ اور اس کی تعلیم کے ساتھ ہے۔اس وقت میں دو نکاحوں کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ہر دو خاندانوں کا پرانا اور گہرا تعلق ذاتی طور پر بھی میرے ساتھ ہے اور جماعتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان خاندانوں کو قربانیوں اور ایثار کی تو فیق عطا کی ہے جیسے کہ پہلے بھی میں نے کئی بار کہا ہے ( نکاح کے موقعوں پر ) کہ اس کے نتیجہ میں ہم پر پہلی اور آخری ذمہ داری جو عائد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں کرتے رہیں کہ جو نئے نئے رشتے جماعت میں قائم ہورہے ہیں ان کے وہ ثمرات نکلیں جو ثمرات اللہ تعالیٰ اسلام میں ان رشتوں کے نتیجہ میں نکالنا چاہتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق عمل کیا جائے۔فرمائی۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کروایا اور رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے دعا روزنامه الفضل ربوه ۲۷ / اگست ۱۹۶۶ صفحه ۳، ۴)