خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 302
خطبات ناصر جلد دہم کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔خطبہ نکاح ۴ /اگست ۱۹۶۶ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایمان کا دعویٰ کرنے والو! خدا کا تقویٰ اپنے اعمال کے ذریعہ سے بھی ظاہر کرو۔ہر اس بات سے بچ کر جو تمہارے رب تمہارے اللہ کی نگاہ میں ناپسندیدہ اور معیوب ہے اور ہر وہ عمل بجالا کر جسے وہ پسند کرتا ہے۔اس کی ڈھال کے پیچھے اور اس کی پناہ میں سارے عمل بجالا کر۔اس کے علاوہ قُولُوا قولاً سَدِيدًا اجو بات کہو وہ صرف سچ ہی نہ ہو بلکہ صاف اور سیدھی ہو۔اس میں کوئی پیچ نہ ہو۔کوئی رخنہ نہ ہواور کوئی فسادنہ ہو۔یہ سب کچھ کر لینے کے بعد یہ نہ سمجھ لینا کہ تمہارے اعمال ، اعمال صالحہ ہیں۔کیونکہ عمل صالح وہ عمل ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی صالح ہو اور جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان سے صالح بناد یا ہو۔کیونکہ اصلاح میں احسان کرنے کا تصور اور تخیل بھی پایا جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ کا جملہ استعمال فرما کر ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اپنی طرف سے بظاہر نیک عمل بجالا نا۔اپنی طرف سے بظا ہر قول سدید پر قائم ہو جانا ہمیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ یہ ساری باتیں اسی وقت اعمال صالحہ شمار ہوسکتی ہیں جب اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل اور احسان سے ان اعمال کو صالح بنا دے۔ان کے فساد کو دور کر دے اور جہاں تقویٰ کی باریک راہوں کو چھوڑنے کی وجہ سے کوئی خامی رہ گئی ہو۔اس خامی کے بد نتیجہ سے محفوظ رکھتے ہوئے اور جہاں کوئی طبعی کمزوری پائی جاتی ہو اس کمزوری کو دور کرتے ہوئے محض احسان کے طور پر وہ تمہارے اعمال کو اعمال صالحہ قرار دے دے۔اس وقت تمہیں ان کا ثواب ملے گا۔پس ساری کوششوں کے باوجود ہمارا عمل، عمل صالح نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا احسان اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا احسان ہم کسی عمل سے تو نہیں لے سکتے۔اس کا احسان تو محض اس کے فضل اور احسان سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تم میرے فضل اور میرے احسان کو دعاؤں کے ذریعہ سے ہی جذب کر سکتے ہو۔تو يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ میں بتایا کہ تمہارے اعمال، اعمال صالحہ تبھی ہو سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ