خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 293
خطبات ناصر جلد دہم ۲۹۳ خطبہ نکاح یکم جولائی ۱۹۶۶ء ہمیشہ اور ہر موقع پر تقویٰ کو ملحوظ رکھو خطبہ نکاح فرمودہ یکم جولائی ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوہ حضور انور نے بعد نماز عصر مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱۔طاہرہ نگہت صاحبہ بنت محترم راجہ علی محمد صاحب ( ریٹائرڈ افسر مال ) سابق ناظر بیت المال ہمراہ مکرم سید حمید احمد صاحب ابن مکرم ڈاکٹر شفیع احمد صاحب دہلوی بعوض چھ ہزار روپیہ مہر۔مکرم رفیق احمد صاحب ابن محترم خان صاحب مولوی فرزند علی مرحوم سابق ناظر بیت المال ہمراہ صالحہ وسیم صاحبہ بنت مکرم چوہدری رشید احمد خاں صاحب حال شیخو پورہ بعوض آٹھ ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن کریم ہمیں بار بار تقویٰ کے اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔اس لئے کہ تقومی ہمارے مذہب میں ایک بنیادی چیز ہے جس کی طرف مومنوں کو ہمیشہ اور ہر موقع پر توجہ دلا نا ضروری ہے۔تقویٰ کے معنے ہیں کہ انسان برائیوں ، بدیوں اور نواہی سے اس نیت سے بچے کہ کہیں اس کا رب اور اس کا پیدا کرنے والا اس سے ناراض نہ ہو جائے اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنانے والا ہو۔اس میں ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ڈھال بنانے کا جو تصور ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم ، ہمارے اعمال، ہماری نیات اور ہمارے خیالات سارے کے سارے اللہ تعالیٰ