خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 294 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 294

خطبات ناصر جلد دہم ۲۹۴ خطبہ نکاح یکم جولائی ۱۹۶۶ء کی ڈھال کے پیچھے پناہ لینے والے ہوں۔جس زمانہ میں تیر و تفنگ کی جنگ ہوا کرتی تھی۔اس وقت اگر ایک جنگ جو اور بہادر انسان میدان جنگ میں جبکہ ہر طرف تیر چل رہے ہوتے تھے اپنے جسم کے ایک حصہ کو ڈھال کے پیچھے رکھتا اور دوسرے حصہ کو دشمن کے سامنے نگا رکھتا تو وہ اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈال رہا ہوتا۔ڈھال کا تصور ہی یہ ہے کہ انسان پورے کا پورا اس کے پیچھے آجائے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ ننگا نہ ہو کیونکہ اس کا وہ حصہ جو نگا ہے اس کے لئے ہلاکت اور خطرہ کا موجب بن سکتا ہے۔نکاح اور شادی کے موقع پر ہمیں خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنانے کی طرف توجہ دلا کر بتایا جاتا ہے کہ شادی اور شادی کے نتیجہ میں بننے والے رشتہ داروں کے تعلقات کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال میں اور پھرا پنی سنت سے ہمیں بہت سے سبق دیئے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں کیونکہ اگر ہم اس تعلیم پر عمل کریں گے تو ہم فتنوں، فساد، شیطانی وسوسوں اور برائیوں سے بچ جائیں گے اور ہم اپنی زندگی کے ہر لحاظ میں خوش و خرم رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اس کی توفیق عطا کرتا ہے تا کہ ہم سارے کے سارے ہر لحظہ اور ہر آن اللہ تعالیٰ کو ڈھال بنانے والے ہوں اور ہمارے جسموں ، ہماری روحوں ، ہمارے ذہنوں اور ہمارے دلوں کا کوئی حصہ شیطان کے سامنے نہ ہو کہ وہ ہم پر وار کر کے ہمیں ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دے۔اس وقت میں دو نکاحوں کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور ان دونوں نکاحوں کا تعلق ہمارے ایک ایک سابق ناظر صاحب بیت المال سے ہے۔ایک نکاح تو عزیزہ طاہرہ نگہت صاحبہ بنت محترم راجہ علی محمد صاحب سابق ناظر بیت المال کا ہے۔یہ نکاح مکرم سید حمید احمد صاحب ابن محترم ڈاکٹر شفیع احمد صاحب دہلوی کے ساتھ بعوض چھ ہزار روپیہ مہر قرار پایا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے عزیزہ طاہرہ نگہت محترم راجہ علی محمد صاحب سابق ناظر بیت المال کی صاحبزادی ہیں۔راجہ صاحب محترم نے جماعت کی بہت خدمت کی ہے اور ہر احمدی جس نے جماعت کی تاریخ کا علم حاصل کیا ہو اور وہ قربانی کرنے والوں کی زندگی کا مطالعہ کرتا رہا ہوا سے خوشی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے آج موقع عطا فرمایا ہے کہ وہ دعا کے ذریعہ ان بزرگوں کی تھوڑی بہت