خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 273
خطبات ناصر جلد دہم ۲۷۳ خطبہ نکاح ۲۷ مارچ ۱۹۶۶ء اپنی زندگیاں وقف کرو۔تو اس کے نتیجہ میں اچھی ذہنیت پیدا ہو جائے گی۔چنانچہ میں نے ناصرہ صدیقہ کے والد کو بلایا اور اسے اس سلسلہ میں تحریک کی۔انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا۔چنانچہ اس عزیزہ نے بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی وقف کر دی اور وقف زندگی کا با قاعدہ فارم پر کر دیا۔دوسرا نکاح نصرت رحمت اللہ صاحبہ بنت مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب آف کراچی کا ہے جو عزیز مکرم ملک منور احمد صاحب ابن مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کے ساتھ دس ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔مکرم ملک غلام فرید صاحب نے اپنی ساری زندگی بطور واقف کے گزاری ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے اور اس کے تفسیری نوٹ تیار کرنے کی توفیق بخشی ہے۔منور احمد میرے شاگرد بھی ہیں اور بڑے اچھے شاگرد ہیں۔پھر میرا ان سے ذاتی تعلق بھی ہے۔مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب بھی مخلص احمدی ہیں اور ان میں بعض باتیں تو ایسی بھی پائی جاتی ہیں جنہیں میں اس وقت ظاہر نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا اچھا نمونہ دکھانے کی توفیق دی ہے جو واقعہ میں قابل قدر اور قابل رشک ہے۔تیسرا نکاح عزیزه طلعت باجوہ صاحبہ بنت مکرم چو ہدری شریف احمد صاحب باجوہ کا ہے جو مکرم چوہدری ماجد علی صاحب ابن مکرم چوہدری اعظم علی صاحب ریٹائر ڈسیشن جج سے بعوض مبلغ دس ہزار روپیہ مہر قرار پایا ہے۔مکرم چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ سے بھی میرے بڑے پرانے تعلقات ہیں جو مختلف اوقات میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔۱۹۴۷ء کے فسادات کے دوران اور پھر قیام پاکستان کے بعد فرقان بٹالین میں ہمیں اکٹھے کام کرنے کا موقع ملا اور اس کے بعد یہ تعلقات دن بدن بڑھتے ہی چلے گئے۔اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو بابرکت اور ان دعاؤں کا وارث بنائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کرایا اور احباب سمیت لمبی دعا فرمائی۔(روز نامه الفضل ربوه ۹ را پریل ۱۹۶۶ء صفحه ۳) ☐☐☐