خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 272
خطبات ناصر جلد دہم ۲۷۲ خطبہ نکاح ۲۷ مارچ ۱۹۶۶ء یہی حال ان رشتوں کا ہوتا ہے جو نکاح کے نتیجہ میں قائم ہوتے ہیں۔ایک خاندان کی ایک بچی جو اپنے خاص ماحول میں پرورش پائی ہوئی ہوتی ہے اور کچھ عادتیں بھی اس نے سیکھی ہوتی ہیں اس کا رشتہ کسی دوسرے خاندان کے ایک بچہ سے طے ہو جا تا اور قرار پا جاتا ہے۔یہ لڑ کا بھی اپنے خاندان کے ماحول کا پروردہ اور اپنے خاندان کی عادات لئے ہوئے ہوتا ہے۔جس طرح درخت کے پیوند کی حفاظت کی جاتی ہے اس سے بھی زیادہ اس نئے رشتہ کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس رشتہ کی وجہ سے ہر دوخاندانوں پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آپ اگر ان رشتوں کا مطالعہ کریں جو نا کام ہو جاتے ہیں یا ان میں الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں تو معلوم ہوگا کہ نا کامی اور الجھنوں کے پیدا ہونے کا بڑا سبب لڑکے یا لڑکی کے خاندان کا غلط رویہ ہی ہوتا ہے۔اس موقع پر لڑکی کے خاندان کو بھی لڑکے کے خاندان کو بھی بڑی ذمہ داری اور سوجھ بوجھ کے ساتھ کام کرنا چاہیے لیکن انسان ہونے کی وجہ سے ان کا تدبر اور فکر بہر حال کمزور ہوتا ہے اس لئے خدائی مدد کے بغیر وہ کامیابی کا منہ نہیں دیکھتے۔یہی وجہ ہے کہ نکاح کے موقع پر جو قر آنی آیات پڑھی جاتی ہیں ان میں فریقین کو بار بار اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو۔خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بناؤ اور اس کی حفاظت میں آ جاؤ۔تا خدا تعالیٰ ان کمزوریوں سے جو تم سے سرزد ہو جاتی ہیں یا سرزد ہو سکتی ہیں تمہیں محفوظ رکھے اور اس تعلق میں جو تم دنیا کی آبادی کے لئے خادمِ دین پیدا کرنے کے لئے اور معاشرہ کے قیام کی غرض سے کرتے ہو برکت ڈالے اور اس مقصد کو پورا کرے جو تمہارا ہے اور جو اس نے اس رشتہ نکاح کے قائم کرنے میں تمہارے سامنے رکھا ہے۔اس مختصر سی تمہید کے بعد میں تین نکاحوں کا اعلان کروں گا۔علاوہ اس مضبوط اور قوی رشتہ کے جو ایک احمدی کو دوسرے احمدی کے ساتھ ہے میرے ان خاندانوں سے ذاتی تعلقات بھی ہیں جن کے بچوں اور بچیوں کے نکاح ہورہے ہیں۔ان میں سے ایک نکاح تو ایک واقف زندگی کا ہورہا ہے اور ایک واقف زندگی سے زیادہ مجھے کون عزیز ہو سکتا ہے۔ان کا نکاح ناصرہ صدیقہ بنت چوہدری فضل احمد صاحب سے دو ہزار مہر پر قرار پایا ہے۔چند دن ہوئے مجھے خیال آیا کہ واقفین زندگی کی جن لڑکیوں سے شادیاں ہوتی ہیں اگر انہیں بھی اس طرف متوجہ کیا جائے کہ تم