خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 269
خطبات ناصر جلد دہم ۲۶۹ خطبہ نکاح ۲۰ مارچ ۱۹۶۶ء با ہمی تعلقات خدا کی رضا جوئی کی بنیاد پر قائم کرنے چاہئیں خطبه نکاح فرموده ۲۰ مارچ ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرم چوہدری منور احمد صاحب ابن مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمدیہ کے نکاح ہمراہ ثریا نسرین صاحبہ بنت مکرم چوہدری عبدالمجید صاحب دار الرحمت شرقی ربوہ کا اعلان بعوض چار ہزار روپیہ حق مہر فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نکاح کے موقع پر جو آیات قرآنیہ پڑھی جاتی ہیں ان میں ہمیں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ہم ہر کام کے شروع کرتے وقت یہ سوچ لیا کریں کہ کہیں اس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ ناراض تو نہیں ہو جائے گا۔اسی طرح ہر کام کے ترک کرنے سے پہلے یہ سوچ لیا کریں کہ کہیں اس کے ترک کرنے سے خدا تعالیٰ ناراض تو نہیں ہو جائے گا۔اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضلوں اور رحمتوں سے نوازتا رہے گا۔اگر دنیا والے ہر کام سے پہلے اپنے خدا کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اس کے کرنے سے کوئی خرابی تو پیدا نہیں ہوتی۔یہ کوئی ایسا کام تو نہیں کہ جو خدا تعالیٰ کو نا پسند ہو۔یا اگر کسی کام کے ترک کرنے کا ارادہ ہے تو اس کے ترک کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہو کہ ہم اس کام کو