خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 270
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۰ مارچ ۱۹۶۶ء کریں گے تو دنیا میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو جائے گا اور اس میں امن کی زندگی گزارنے والے انسان بسنے لگیں۔سید ایک بنیادی تعلیم ہے جو اسلام نے ہمیں دی ہے اور جس کا تعلق انسان کی زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔خصوصاً اس تعلق کے متعلق جو انسان کا ایک دوسرے انسان سے ہوتا ہے۔بعض کام انسان کی ذات کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں اور بعض کام معاشرہ سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔خصوصاً ایسے کاموں کے متعلق ہمیں یہ سوچنا، سمجھنا اور غور کرنا چاہیے کہ کہیں ان کے کرنے سے اللہ تعالیٰ ناراض تو نہیں ہو جاتا۔بیاہ اور شادی کی وجہ سے جو رشتہ قائم ہوتا ہے۔اس میں یہ بات نہایت ضروری ہے کہ باہمی تعلقات کو خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔اگر ہمارے ہر عمل کی بنیاد تقویٰ پر ہو تو نکاح اور رخصتانہ وغیرہ کے متعلق ساری بدرسوم خود بخو دمٹ جاتی ہیں۔اس سے با ہمی رنجشیں بھی دور ہو جاتی ہیں۔انسان بہر حال کمزور ہے اور وہ بھول چوک میں بہت سی ایسی باتیں کرتا ہے کہ دوسرے تعلق رکھنے والے خصوصاً بڑے گہرے تعلق رکھنے والے انسان مثلاً بیوی یا میاں اس سے خوش نہیں بلکہ ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر انسان ہر کام خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کی رضا جوئی کے لئے کرے تو دنیا کے کام بھی چلتے رہتے ہیں اور آپس کے تعلقات بھی بڑے خوشگوار ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کرایا اور حاضرین سمیت اس رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے لمبی دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۹ رمئی ۱۹۶۶ ء صفحه ۳)