خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 251
خطبات ناصر جلد دہم ۲۵۱ خطبہ نکاح ۹ فروری ۱۹۶۶ء اسلام دنیا میں جو جنت پیدا کرنا چاہتا ہے خاندان اس کا اہم جزو ہے خطبہ نکاح فرموده ۹ فروری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرمہ شمیم خانم صاحبہ بنت انتصارحسین خاں صاحب ربوہ کے نکاح ہمراہ شیخ کرامت فاروق صاحب ابن شیخ نعمت اللہ صاحب ربوہ کا اعلان بعوض دو ہزار روپیہ مہر فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِه یعنی تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی اپنے رشتہ داروں اور اپنے خاندان کے لئے بہتر ثابت ہو۔اہل کے معنے بیوی کے بھی ہیں اور اس کے معنے رشتہ داروں اور خاندان کے بھی ہیں اور اس ایک لفظ کو استعمال فرما کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ اپنے خاندان میں ہماری دو حیثیتیں ہوسکتی ہیں۔کبھی ہماری حیثیت ایک عام فرد خاندان کی ہوتی ہے یعنی خاندان میں کوئی اور آدمی بڑا ہوتا ہے اور ہم اس کے ماتحت ایک عام فرد ہونے کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور کبھی ہم خود خاندان کے بڑے فرد ہوتے ہیں اور خاندان کا بڑا فرد ہونے کی حیثیت سے باقی خاندان کی تربیت کا بوجھ اپنے کندھوں پر لئے ہوتے ہیں۔گویا ہر انسان کی خاندان میں دو حیثیتیں ہیں۔