خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 252
خطبات ناصر جلد دہم ۲۵۲ خطبہ نکاح ۹ فروری ۱۹۶۶ء ایک حیثیت اس کی ایک عام فرد خاندان کی ہے اور دوسری حیثیت اس کی خاندان کے بڑا فرد یعنی لیڈر ہونے کی ہے اور اس دوسری حیثیت میں اس پر دونوں قسم کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یعنی وہ ذمہ داریاں بھی جو ایک عام فرد خاندان ہونے کی حیثیت سے اس پر عائد ہیں اور وہ ذمہ داریاں بھی جو خاندان کا بڑا فرد ہونے کی حیثیت سے اس پر عائد ہیں۔اگر ہر خاندان کا بڑا آدمی اپنی ان ذمہ داریوں کو سنبھال لے جو اس پر دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے عائد ہوتی ہیں تو اس کا خاندان ہی نہیں بلکہ اس کا شہر اس کا علاقہ اور اس کا ملک جنت نظیر بن جائے کیونکہ شہر، علاقے یا ملک بھی خاندانوں سے ہی بنتے ہیں ان کے مجموعہ کا ہی نام ہے۔پس خاندان اجتماعی معاشرتی زندگی کا ایک چھوٹا مگر بنیادی حلقہ ہے۔اگر اس کی تربیت اس رنگ میں کر لی جائے کہ اس کا ہر فر دخاندان کی یا اپنے شہر اور علاقہ کی ان ذمہ داریوں کو جو اس پر عائد ہوتی ہیں اچھی طرح سنبھال لے تو صرف خاندان ہی نہیں اس کا علاقہ اور ملک بھی جنت نظیر بن جائے۔غرض اسلام جو جنت دنیا میں پیدا کرنی چاہتا ہے معاشرتی لحاظ سے خاندان اس کا ایک اہم جزو ہے اور اس کی تربیت کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھوٹی سی لیکن وسیع معنوں پر مشتمل حدیث میں ہمیں توجہ دلائی نے ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی توفیق عطا فرمائے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت اور جملہ دوسری نصائح پر صحیح عمل کرنے والے ہوں۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب و قبول کرایا اور حاضرین سمیت اجتماعی دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ فروری ۱۹۶۶ء صفحه ۳)