خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 3
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عید الفطر ۲۳ جنوری ۱۹۶۶ء اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے کہ وہ اپنی اس نیت کے مطابق عمل کرے اور جب وہ اپنی اس نیت کے مطابق خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے نیک عمل کرتا ہے تو تیسری دفعہ اس کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اسے اس نیک نیت کو عملی جامہ پہنانے کی توفیق بخشی ہے۔پھر جب وہ نیک عمل کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے اس نیک عمل کو قبول کر لیتا ہے تو چوتھی دفعہ اسے خوشی پہنچتی ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس پر کتنا فضل اور احسان کیا کہ اس نے اپنی رحمت سے اس کے عمل کو بھی قبول کیا ہے۔وہ اس سے خوش ہوتا ہے۔غرض انسان کے ہر نیک عمل میں اس کے لئے چار عید میں پوشیدہ ہیں اور وہ چار دفعہ اللہ تعالیٰ کے افضال اور احسانوں کو یاد کر کے خوش ہوتا ہے اور یہ جو دو عیدیں اللہ تعالیٰ نے ظاہر میں مسلمانوں کے لئے مقرر فرمائی ہیں ان کا حال بھی اسی طرح کا ہے۔مثلاً عید الفطر ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہارے دلوں میں روزہ رکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔پھر تم نے روزہ رکھنے کی نیت کی۔پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق بخشی کہ تم رمضان کے پورے کے پورے روزے رکھ سکو۔پھر اس نے ہمیں امید دلائی کہ میں تمہارے یہ روزے قبول کرلوں گا اور اس عبادت کے نتیجہ میں میں اپنے بندہ کو اپنی رضا کی جنت میں داخل کروں گا۔غرض چارخوشیاں ہمیں اس موقع پر بھی نظر آتی ہیں۔پھر ماہ رمضان کی عبادت میں قیام لیل بھی ہے دن کو ہم روزے رکھتے ہیں اور رات کو عام راتوں سے زیادہ عبادت کرتے ہیں۔اگر چہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ میں اتنے ہی نوافل پڑھا کرتے تھے جتنے نوافل آپ دوسرے دنوں میں پڑھا کرتے تھے لیکن حدیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ ان ایام میں آپ دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ وقت لگاتے تھے۔آپ بڑی لمبی لمبی رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور بعض دفعہ ان میں اکثر حصہ رات کا گزار دیتے تھے اور پھر آپ اس عبادت کو بڑے تعہد سے ادا کرتے تھے۔اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورۃ زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آمَنْ هُوَ قَانِتُ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَ قَابِمَا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَ يَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ