خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 2
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عید الفطر ۲۳ جنوری ۱۹۶۶ء پیدا ہوتا ہے اور بظاہر اسے دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک تو اسے پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی ہے جس سے وہ اس مہینہ کے اخراجات پورے کرتا ہے اور دوسرے بچہ کی پیدائش ان کے لئے خوشی لاتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے اور بچہ کی پیدائش کے بعد ایک طرف اس کی ماں بیمار ہو جاتی ہے اور دوسری طرف تیمارداری کے سلسلہ میں اقرباء اس کے دروازہ پر دستک دینا شروع کر دیتے ہیں۔بیوی کی بیماری کی وجہ سے وہ شخص غم زدہ ہوتا ہے اور جس تنخواہ سے اس نے مہینہ کے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں وہ علاج اور اقرباء کی مہمان نوازی پر خرچ ہو جاتی ہے اور اس طرح مہینہ کی پہلی تاریخ اس کے لئے خوشی کا موجب نہیں بنتی۔اسی طرح کی اور سینکڑوں ہزاروں مثالیں سوچی جاسکتی ہیں۔غرض دنیوی لحاظ سے جو واقعات انسان کی زندگی میں بار بار آتے ہیں اور عام طور پر وہ خوشی کا موجب ہوتے ہیں۔ضروری نہیں کہ وہ فی الواقعہ خوشی کا باعث بنیں۔صرف روحانی امور ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی میں بار بار آتے ہیں اور ہمیشہ ہی اس کے لئے خوشی اور مسرت کا باعث بنتے ہیں اس لئے کہ ان کا تعلق خدا کے فضل کے ساتھ ہوتا ہے اور کوئی فرد ، کوئی گھرانہ یا کوئی قوم جس پر خدا تعالیٰ بار بار اپنا فضل کر رہا ہوتا ہے غم زدہ یا متفکر نہیں رہ سکتا۔ہر دفعہ خدا تعالیٰ کے فضل کو دیکھ کر اس کا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے اور اس کا چہرہ مسرت سے کھل جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس قسم کی عیدوں کے بڑے سامان پیدا کئے ہیں۔ہر نیک عمل جو انسان کرتا ہے وہ اس کے لئے اپنے اندر بہت سی عیدیں سمیٹے ہوئے ہے۔نیکی کا کوئی کام لے لیں پہلے انسان کے دل میں اس کے متعلق خواہش پیدا ہوتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ کا بندہ خوش ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس پر فضل کیا ہے اور اس کے اندر نیکی کا یہ کام کرنے کی خواہش پیدا کی ہے پھر یہ نیک خواہش ترقی کر کے نیت میں بدل جاتی ہے اور انسان اسے پورا کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے۔وہ یہ ارادہ بھی اپنے زور بازو سے نہیں کر سکتا بلکہ اس ارادہ میں بھی خدا تعالیٰ کا فضل کام کر رہا ہوتا ہے تو یہ دوسری عید ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کے لئے خوشی لاتی ہے اور اس کا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے وہ کہتا ہے اس کے رب نے اس پر کتنا احسان کیا ہے کہ اسے توفیق دی کہ وہ اس نیک خواہش کو نیت کا جامہ پہنانے کے قابل ہو جائے پھر اس کے بعد