خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 235
خطبات ناصر جلد دہم ۲۳۵ خطبہ نکاح ۲۸ نومبر ۱۹۶۵ء خاوند اور بیوی کے تعلقات کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہیے خطبہ نکاح فرموده ۲۸ نومبر ۱۹۶۵ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز ظہر مکرمہ ناصرہ بشیر صاحبہ بنت ڈاکٹر بشیر احمد صاحب اور چوہدری رشید احمد صاحب کے نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جو رشتہ نکاح کے ذریعہ قائم ہوتا ہے بڑا ہی نازک ہوتا ہے۔لڑکی ایک خاندان سے ہوتی ہے اور لڑکا ایک دوسرے خاندان سے ہوتا ہے۔ہر ایک نے اپنے اپنے ماحول میں پرورش پائی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ان دونوں کے ماحول میں کافی اختلاف ہوتا ہے پھر ہر ایک میں اپنے ماحول کے مطابق بعض عادتیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں اور طبیعت کا ایک میلان قائم ہو چکا ہوتا ہے۔اس صورت میں دونوں اپنے مانوس ماحول کو چھوڑ کر اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک نیا گھرانہ قائم ہوتا ہے اس لئے اس رشتہ کو نبھانے کے لئے بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔کچھ عادتیں جو بیوی کی عادات کے خلاف ہوں خاوند کو چھوڑنی پڑتی ہیں اور کچھ عادتیں جو خاوند کی عادات کے خلاف ہوں بیوی کو ترک کرنی پڑتی ہیں۔کیونکہ دنیوی نقطۂ نگاہ سے بھی گھر یلو امن اور خوشحالی کا ہونا ضروری ہے اور یہ امن اور خوشحالی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک میاں بیوی میں سے ہر ایک