خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 218
خطبات ناصر جلد دہم ۲۱۸ خطبہ عیدالاضحیه ۱۹ /اکتوبر ۱۹۸۰ء پہنچتیں۔اس کو تقویٰ اور دلوں کی پاکیزگی سے تعلق ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ پرانے بادشاہوں کا طریق تھا کہ عیدوں اور خوشیوں کے موقع پر ان کو لاکھوں روپے کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔ان میں سے مغل بادشاہوں کے طریق کے مطابق جو تحائف بادشاہ کو پسند ہوتے وہ رکھ لیتے اور جو پسند نہ آتے انہیں واپس کر دیا جاتا۔جو چیز اللہ تعالیٰ کو پسند آئے وہ اسے رکھتا ہے۔جو دنیوی چیزیں اس کے حضور پیش کی جاتی ہیں۔اس کی اسے ضرورت نہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ خدا کی بنائی ہوئی کائنات کا ایک ذرہ بلکہ اس کا بھی کچھ حصہ پیش کر کے یہ سمجھ لینا کہ ہم نے کوئی احسان کیا ہے ، حماقت ہے۔مومن اس کی خاطر ذلتوں کو خوشی سے قبول کرتے ہیں۔دنیا وی عزتیں خدا کی راہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔اصل سرچشمہ عزت کا وہ خود ہے۔حضور انور نے فرمایا :۔دنیا جو خوشیاں مناتی ہے۔میں نے اس پر بہت غور کیا ہے۔ان کی خوشیاں منانے کی کوئی بنیاد نہیں۔اسلام میں خوشی کی بنیاد اعمال صالحہ کی مقبولیت ہے۔انسان اس وقت عزت پاتا ہے جب اس کی قربانیاں قبول ہو جائیں۔قربانیوں کی قبولیت کے بعد ہی اسے حقیقی خوشی ملتی ہے۔حضور انور نے فرمایا:۔انسان جو کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اسے اس نے قرض قرار دیا اور اللہ تعالیٰ اس قرض کو بڑھا چڑھا کر واپس کرتا ہے۔حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے زمانہ میں جو لوگ آپ کے فدائی تھے۔جو پانچ پانچ دس دس روپے آپ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ان کی اولادیں آج دس دس ہزار روپیہ ماہوار پارہی ہیں۔خدا نے قرض اپنے پاس نہیں رکھا۔حضور انور نے فرمایا:- آج کی خوشی ایک عظیم قبولیت کے نتیجہ میں ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کے ایک حصہ کو وادی غیر ذی زرع میں آباد کیا۔حضرت اسماعیل بچے تھے۔والدہ کی تربیت نے ایک شعور پیدا کر دیا تھا۔ان کے اندر تقویٰ کی راہ پیدا ہو چکی تھی۔جب قربانی کا