خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 215

خطبات ناصر جلد دہم ۲۱۵ خطبہ عیدالاضحیہ یکم نومبر ۱۹۷۹ء دور یہ عید منارہے ہیں مگر ہماری عید تو تبھی حقیقی عید ہو جب ہم اس سے دور ہوتے ہوئے بھی اپنے دل میں خدا کے لئے وہ پیار محسوس کریں اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اپنے رب کے لئے اور تمام استعدادوں اور قوتوں سے بڑھ کر استعداد رکھنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی استعداد کے مطابق اپنے رب کے لئے اس محبت کو محسوس کیا تھا اگر ہمارے دل اس محبت سے سرشار ہوں ، ہماری عید ہے۔جس طرح قربانی کے گوشت خدا کو نہیں پہنچتے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے، تقویٰ کا بھی ایک پہلو پیار سے تعلق رکھتا ہے اسی طرح ان گوشتوں سے بنایا ہوا پلاؤ اور قورمہ بھی خدا کو نہیں پہنچتا۔عید والے دن اچھے کپڑے جو ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں۔خدا کی نگاہ میں تو پسندیدہ ہیں وہ سینئہ و دل جن میں اس کے نور کی شمع روشن ہے، وہ ذہن جو عقلاً خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتے اور وہ جذبات جو دل میں سمندر کی طرح موجزن ہوتے ہیں جب وہاں عشق پیدا ہو جاتا ہے خدا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا۔اللہ تعالیٰ سے ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمارے لئے حقیقی عید کے سامان پیدا کرے اور ذاتی پیار کا تعلق ہر احمدی کا اپنے پیدا کرنے والے رب کریم سے ہو جائے اور جس طرح اس عشق اور محبت نے دنیا سے ظلمات کو مٹا کر نور کو پھیلایا تھا اسی طرح ہمیں اور ہماری نسلوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم دنیا سے ظلمات کو مٹائیں اور ہر انسان کے لئے بہتری کے سکون کے ، اطمینان کے نور کے سامان پیدا کرنے والے ہوں اور ان کے سارے اندھیروں کو دور کرنے والے ہوں۔آمین خطبہ ثانیہ اور اجتماعی دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سب دوستوں کو ایک بار پھر عید مبارک ہو۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )