خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 202
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عید الاضحیہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۷ء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر قسم کے فیوض حاصل کر کے آپس میں بانٹنے تھے۔پس قربانی کی اس عید کا تعلق دنبوں یا بھیڑوں یا بکریوں یا گائے یا اونٹ کی قربانی سے نہیں اس عید کا تعلق ذبح عظیم سے ہے یعنی جان کی قربانی سے نہیں خدا کی راہ میں زندگی کی قربانی سے۔یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ بہت سے مواقع پر انسانوں کا جان دینا زندہ رہ کر قربانی دینے سے بہت آسان ہو جاتا ہے اسی لئے جو مومن شہداء ہیں ان کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ وہ خدا کے حضور یہ خواہش پیش کریں گے کہ انہیں پھر زندہ کیا جائے اور پھر وہ خدا کی راہ میں جان کی قربانی دیں اور پھر زندہ کیا جائے اور پھر قربانی دیں۔اس میں بھی ہمیں یہی سبق دیا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں محض جان دے دینا یہ تو کوئی چیز نہیں اصل چیز خدا کی راہ میں زندگی گزارنا ہے اور یہی ذبح عظیم ہے جس کی رو سے انسان اپنی تمام خواہشات کو چھوڑ کر اپنی رضا کو قربان کر کے خدا تعالیٰ کی رضا کو قبول کرتا اور اس کے پیار کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ جب ہم حج کے اس خاص موقع پر قربانیوں کی ظاہری علامت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں مختلف قسم کی ایسی قربانیوں کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جن کا تعلق زندگی گزارنے کے ساتھ ہے یعنی وقت کی قربانی اور مال کی قربانی جس کا تعلق زندگی کی آسائش کے ساتھ ہے۔مال کی قربانی اس طرح پر کہ جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے اس پر خرچ ہوتا ہے پھر مال کی قربانی اس طرح پر بھی کہ اگر حساب لگایا جائے تو میرے خیال میں امت محمدیہ حج کے موقع پر اربوں روپے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیتی ہے۔اس دفعہ مکہ میں ہم سے دو دن پہلے عید ہوئی ہے چنا نچہ خبر تھی کہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے دس لاکھ سے زائد افراد نے فریضہ حج ادا کیا۔کئی امریکہ سے آئے۔ہزاروں کی تعداد میں انڈونیشیا سے آئے پھر افریقہ سے آنے والے ہیں، جزائر سے آنے والے ہیں۔ہمارے اس بڑا اعظم سے بڑی تعداد میں جانے والے ہیں۔غرض مختلف ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں حج کے لئے لوگ مکہ میں پہنچتے ہیں۔اگر ان کا زاد راہ ہی لیا جائے تو ایک بڑی رقم بن جاتی ہے پھر ان میں سے کسی نے وقت کے لحاظ سے دو ماہ خرچ کئے کیونکہ اتنی بڑی تعداد کو ۳ ۴۰ دن میں تو وہاں نہیں پہنچایا جاسکتا۔مختلف ملکوں سے