خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 198
خطبات ناصر جلد دہم ۱۹۸ خطبہ عید الاضحیہ ۲؍دسمبر ۱۹۷۶ء ہماری اس عید کا تعلق فریضہ حج سے ہے اور فریضہ حج کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے، بیت اللہ سے ہے، مسجد حرام سے ہے اور انسان سے بیت اللہ کا رشتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ تازہ کیا گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی نے ان قوموں کو تیار کیا جنہوں نے اپنے وقت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنا تھا اور آپ کی امت کا یہ فرض ٹھہرا کہ بیت اللہ کے جو اغراض و مقاصد ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے اس تحریک کو شروع کیا ان کو پورا کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار رہیں اور ان کو آنکھوں کے سامنے رکھیں کسی وقت آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔یہ عید ہمارے لئے ہمارے رب کی طرف سے بہت سے پیغام لے کر بڑی مبارکبادیوں کے ساتھ آتی ہے۔اس چھوٹی سی آیت کے ٹکڑے میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہے دو پیغام یہ ہیں۔ایک یہ کہ مثابة ہے دوسرے یہ کہ امن کی جگہ ہے یعنی ایسی جگہ سے اس فریضہ کا تعلق ہے جہاں لوگ خدا کے حکم کے ماتحت اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی روشنی میں بار بار اس لئے آتے ہیں کہ انسان پھر سے امت واحدہ بن کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے سایہ تلے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ عاطفت میں جمع ہو اور امت واحدہ بن کر خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ جب تک انسانوں کی منتشر آبادیاں اس جگہ سے تعلق قائم نہیں کریں گی اس وقت تک یہ وحدت انسانی قائم نہیں ہوسکتی اور یہ پیغام دیا گیا ہے کہ دنیا خواہ کتنا زور لگالے جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیم کے مطابق دنیا اپنی زندگی نہیں ڈھالے گی ، امن اور چین اور سکھ کی زندگی نہیں گزار سکے گی۔اور یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے اُمت مسلمہ پر۔بڑی ذمہ داری ہے اُمتِ مسلمہ کے اُن مختلف گروہوں اور جماعتوں پر جو خود کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے والے ہیں۔ہمارے اعتقاد کے مطابق مہدی علیہ السلام کے آنے کی غرض ہی یہ ہے کہ ساری دنیا میں اسلامی تعلیم کا بول بالا ہو اور تمام ادیان کی طرف منسوب ہونے والا انسان اور مذہب کو چھوڑ دینے والا انسان اور خدا تعالیٰ سے دور چلے جانے والا انسان یہ سمجھنے لگے کہ اس کی بھلائی اور