خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 196
خطبات ناصر جلد دہم ١٩٦ خطبہ عیدالاضحیه ۱۴ / دسمبر ۱۹۷۵ء ہمارا یہ فرض ہے اور ہمارے اندر یہ تڑپ ہونی چاہیے کہ ہماری کوئی نسل خدا تعالیٰ کی زبان سے یہ الفاظ نہ سنے کہ تم نے اس چیز کو تو چھوڑ دیا جو اسلام پیش کرتا ہے تم نے اس حقیقت کو تو فراموش کر دیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کر آئے تھے اور ظاہر پر ہاتھ مارا اور اس پر خوش ہو گئے۔خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اس سے دوری حاصل کر کے دنیا کے آرام کی خاطر اور دنیا کے مال و دولت اور سونے چاندی کے انبار کے اندر تمہاری توجہ بہک گئی اور وہ جو ایک کل تھا جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا تھا اور جس کے پیار کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا تھا اور جس کے پورے اور کامل اور اعلیٰ اور نہایت حسین پیار کا وعدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں دیا تھا اسے تم نے بھلا دیا ، خدا کرے کہ ایسا وقت کبھی جماعت پر نہ آئے۔انہی آیات سے جن کی میں نے تلاوت کی ہے پتا لگتا ہے اور قرآن کریم اس سے بھرا پڑا ہے اور میں نے کئی دفعہ یہ کہا ہے اور یہ کہتے ہوئے کبھی تھکوں گا نہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہو جائے اسے دنیا کی کسی اور چیز کی احتیاج باقی نہیں رہتی۔پس جماعت احمدیہ کی ہر نسل کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ رہتی دنیا تک ہماری کوئی نسل خدا کے پیار سے محروم نہیں ہوگی۔چونکہ ہماری نسلوں میں دوسری نسلیں بھی شامل ہو کر سب کی متحدہ کوشش سے اسلام نے دنیا میں غالب آجانا ہے۔اس لئے سارے نوع انسانی کی ہر نسل اپنے اس مقام سے بھٹکے گی نہیں اور خدا تعالیٰ کے پیار کو کبھی کھوئے گی نہیں اور خدا نہ کرے کبھی اس کے او پر خدا تعالیٰ کے قہر اور غضب کے جلوے ظاہر ہوں بلکہ وہ ہمیشہ خدا کی رحمت ، اس کی برکت اور پیار اور رضا کے جلوے دیکھنے والے ہوں غرض یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اس کی طرف ہمیں ہر وقت چوکس رہ کر متوجہ رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ اور اجتماعی دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالی ساری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے یہ عید مبارک کرے اور ساری دنیا میں بسنے والے انسانوں کے لئے اس عید میں برکتوں کے سامان رکھ دے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۰ / مارچ ۱۹۷۶ ء صفحه ۲ تا ۴)