خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 180 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 180

خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۰ خطبہ عیدالاضحیه ۲۵/دسمبر ۱۹۷۴ء جاتے ہیں۔ایک پہلو ہے عاجزی اور انکسار کا اور دوسرا پہلو ہے محبت اور ایثار کا کسی عبادت میں ایک پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے اور کسی دوسری عبادت میں ایک دوسرا پہلو نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے مثلاً ہماری نمازوں میں عاجزی اور انکسار کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور حج کی عبادت میں محبت اور ایثار کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔یوں تو ہر عبادت میں ہر دو پہلو پائے جاتے ہیں مگر جہاں تک نمایاں ہونے کی بات ہے یا زور ڈالنے کی بات ہے ان میں سے کوئی نہ کوئی پہلو کسی نہ کسی عبادت میں نمایاں ہوتا ہے۔آج ہم جو عبادت بجالاتے ہیں۔اس صورت میں بھی کہ مکہ پہنچ کر حج کے ارکان بجالاتے ہیں یا اس شکل میں بھی کہ ہمارے دل وہاں پہنچنے کے لئے تڑپتے تو ہیں مگر ہم وہاں پہنچ نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے ہم بعض دوسرے ایسے کام کرتے ہیں ، جن کا ہم سے وقت تقاضا کرتا ہے اور ان کے نتیجہ میں ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے۔یعنی ایسے حالات جن میں انسان مکہ میں حاضر نہیں ہو سکتا۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ جو لوگ وہاں پہنچ گئے۔ان کا حج قبول ہوا یا جو وہاں نہیں پہنچ سکے۔ان کا ارادہ حج قبول ہوا کیونکہ قبولیت حج کا تعلق تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے اور جو علم غیب اللہ تعالیٰ کو ہے اس کا علم انسان کو ہو ہی نہیں سکتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود بتاۓ اور بعض دفعہ اللہ تعالیٰ بتاتا ہے۔میں نے شاید پہلے بھی ذکر کیا تھا، ایک دفعہ ایک بزرگ نے حج کے موقع پر مکہ میں کشفی حالت میں یا رویا میں دیکھا کہ فرشتے آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔باتوں باتوں میں ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ اس دفعہ حج کے موقع پر کس قدر لوگوں کے حج قبول ہوئے ہیں تو اسے بتایا گیا کہ ہوا تو کسی ایک کا بھی قبول نہیں ، ہاں شام میں ایک شخص ہے، یہ اس کا نام ہے اور فلاں جگہ رہتا ہے وہ حج کے لئے آیا تو نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے حج کو قبول کیا اور ( شاید یہ بھی کہا کہ ) اس کی وجہ سے اور بہت سے لوگوں کے حج بھی قبول ہوئے۔اس بزرگ کو بڑی جستجو پیدا ہوئی۔چنانچہ وہ شام پہنچے اور اس گلی میں گئے جہاں وہ شخص رہتا تھا۔اس کے دروازے پر دستک دی اور پوچھا کہ بات کیا ہے۔میں نے تمہارے متعلق یہ رویا دیکھی ہے۔اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ