خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 181 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 181

خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۱ خطبہ عید الاضحیه ۲۵؍دسمبر ۱۹۷۴ء مجھے ساری عمر حج کی خواہش رہی۔میرا غریب گھرانہ ہے۔میں نے پیسہ پیسہ جوڑ کر حج کے لئے زادِ راہ کا انتظام کیا۔میں حج پر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ ایک دن میری بیوی کو جو حاملہ تھی ہمسائے کے گھر سے گوشت کے پکنے کی خوشبو آئی۔بعض دفعہ حاملہ عورت کو کسی چیز کے کھانے کی بڑی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ اس کی خواہش پوری کرنی چاہیے۔ورنہ بچے کی صحت پر اثر پڑے گا۔چنانچہ میری بیوی نے مجھے کہا کہ ہمسائے کے گھر سے گوشت مانگ کر لاؤ۔چونکہ اسلام نے ہمسایہ کے بڑے حقوق رکھے ہیں۔ہم بھی ان حقوق کو ادا کرتے تھے۔ہماری آپس میں دوستی تھی اور ہمسائیگی کے لحاظ سے آپس میں بڑے اچھے تعلقات تھے۔میں اپنے ہمسایہ کے گھر گیا اور دروازے پر دستک دی۔ہمسایہ کی عورت نے دروازہ کھولا۔میں نے بتا یا کہ اس طرح تمہارے گھر سے گوشت کی خوشبو آئی ہے اور میری بیوی کہتی ہے کہ جاؤ لے کر آؤ میں نے گوشت کھانا ہے۔اس نے جواب دیا کہ ہمارے لئے وہ گوشت جائز ہے لیکن تمہارے لئے جائز نہیں ہے۔اس لئے میں وہ کھانا تمہیں نہیں دوں گی۔میں نے پوچھا یہ کیا بات ہے کہ تمہارے لئے تو گوشت جائز ہے مگر ہمارے لئے جائز نہیں۔کہنے لگی کئی روز سے ہم پر فاقے آرہے تھے۔کھانے کو کچھ نہیں مل رہا تھا، بچے بھوک کے مارے تڑپ رہے تھے۔میرا خاوند باہر گیا۔دیکھا ایک گدھا تازہ مرا پڑا ہے۔اس نے اضطراری حالت میں اس کا گوشت کاٹا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے لے آیا جسے ہم نے پکایا ہے۔یہ اضطراری حالت ہماری تو ہے ، تمہاری نہیں۔اس لئے تمہارے لئے یہ گوشت جائز نہیں ہے۔جب میں نے اپنے ہمسائے کی غربت اور افلاس کی یہ حالت دیکھی تو میں واپس اپنے گھر گیا اور حج پر جانے کے لئے میں نے جو رقم اکٹھی کر رکھی تھی وہ ساری لا کر اپنے ہمسائے کو دے دی اور کہا کہ حرام نہ کھاؤ حلال کھاؤ۔تو دیکھو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس شخص کا حج قبول کیا جو حج پر جاہی نہیں سکا بلکہ اس کے اس اخلاص کے نتیجہ میں بعض دوسرے لوگوں کی جو حج پر گئے تھے، بہت سی کمزوریاں معاف کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کا حج بھی قبول کر لیا۔پس قبولیت حج اور چیز ہے اور ادائیگی فریضہ حج اور چیز ہے۔محض حج ہی نہیں بلکہ ہر عبادت کا