خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 169 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 169

خطبات ناصر جلد دہم ۱۶۹ خطبہ عید الاضحیہ ۱۶ / جنوری ۱۹۷۳ء سے بھی) اس لئے تم اپنی زندگی میں کبھی بھی ایسی حالت میں نہ رہنا کہ تمہارے اوپر ایک موت وارد نہ ہو رہی ہو۔ہر حال میں موت کا چولہ تمہارے اوپر نظر آنا چاہیے۔پس اسلام کی روح جیسا کہ قرآن کریم میں اور جیسا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر قرآن میں بیان ہوا ہے یہ ہے کہ جس طرح ایک بکرا اپنی گردن قصائی کی چھری کے نیچے رکھ دیتا ہے اسی طرح انسان اپنے وجود کو خدا تعالیٰ کے مطالبات کی مبارک چھری کے نیچے رکھ دے۔گویا اسلام کے معنے ہیں اپنی تمام خواہشات کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو کلی طور پر قبول کر لینا اور خدا کی ذات میں گم ہو کر فنا کی ایک کیفیت اپنے اوپر وارد کر کے ایک خاص قسم کی موت کو قبول کر لینا۔اس موقع پر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے ہم یہ محاورہ بھی بول سکتے ہیں کہ اپنی مرضات سے ننگے ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کا احرام باندھ لینا اور فنافی اللہ اور فنا فی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو چولہ ہے اس میں اپنی زندگی گزارنا اور خدا کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ایک موت کو جو ہر وقت کی موت ہے قبول کرنا اور ایک ایسی زندگی جس پر کبھی موت نہیں آتی اسے خدا کے فضل کے ساتھ حاصل کرنا۔یہ ہے اسلام کی اصل حقیقت جس پر قرآن کریم نے مختلف پیرایوں میں روشنی ڈالی۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی اولاد کے ذریعہ قربانی کی یہ روایت قائم کی گئی اور اس میں بتایا گیا کہ انسان کی پیدائش کا مقصد بڑا ارفع ہے سب جانور اس کے لئے قربان ہوں گے جیسا کہ حج کے موقع پر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں جانور اس یاد پر ہر سال قربان ہورہے ہیں۔اس میں انسان کو یہ سبق دیا گیا تھا کہ دنیا کی ہر مخلوق اور سب جانور انسان کے لئے قربان ہوں گے اور انسان خدا کا بندہ بننے کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ایک ایسی زندگی کو اختیار کرے گا جس میں ہر لحہ وہ ایک موت اپنے اوپر وارد کرے گا اور وہ اپنے نفس کو مٹا دے گا تو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نیا نفس ملے گا جس میں سے رَضِيْتُ بِاللهِ رَبِّا کی آواز نکل رہی ہوگی۔اس کا اپنا کچھ نہیں ہوگا۔نہ اس کی خواہشات ہوں گی نہ اپنی اس کی کوئی رضا