خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 150
خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۰ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء اور ان لوگوں کے دلوں میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان کیسے پیدا ہوسکتی تھی۔جنہوں نے آپ کا نام بھی نہیں سنا تھا۔پس بغیر دیکھے یا بغیر سنے کسی کے دل میں محبت کا پیدا ہونا ناممکن بات ہے۔اس لئے اسلام کے اس عالمگیر غلبہ کا تعلق حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت سے ہے اور اس لحاظ سے ایک بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہے اور یہ امران تمام قربانیوں کا متقاضی ہے۔جن کا اشارہ اس عید میں پایا جاتا ہے۔مثلاً جان کی قربانی ہے۔خدا تعالیٰ نے دین کے لئے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس مادی دنیا کے عیش و آرام سے جانتے بوجھتے ہوئے پرے ہٹ جانا اور ایک درویشانہ اور فقیرانہ زندگی کو اختیار کرنا اور یہ بھی ایک بہت بڑی قربانی ہے۔پھر اوقات کی قربانی ہے۔وقف میں ایک جان کی قربانی ہوتی ہے اور ایک زندگی کی قربانی ہوتی ہے۔ایک واقف زندگی در اصل زندگی کی قربانی دے رہا ہوتا ہے اور ایک مجاہد جو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے یا اپنے نفس یا اپنی ماں بہن کی عزت و آبرو کی خاطر جان دیتا ہے۔تو وہ اپنی جان کی قربانی پیش کرتا ہے۔مگر ایک واقف زندگی اپنی ساری زندگی کی قربانی دیتا ہے۔جتنی دیر امن کے حالات میں زندگی بسر ہوتی ہے، وہ کہتا ہے کہ میری زندگی کا ایک ایک لمحہ خدا تعالیٰ کے دین کی سر بلندی کے لئے قربان ہے۔پھر اسی طرح مال کی قربانیاں ہیں۔اس کے علاوہ ہزار قسم کی قربانیاں ہیں۔بے شمار قسم کی قربانیاں ہیں جنہیں انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کی نعمتیں ہم پر بے شمار ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی ہر نعمت سے ایک حصہ واپس مانگتا ہے۔جس کے لئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہمارے اس زمانہ ہی میں اسلام کے عالمگیر غلبہ کا امکان تھا۔کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کے لئے جن چیزوں کی ضرورت تھی۔ایک یہ کہ ساری دنیا اپنے علم کے لحاظ سے ایک برادری بن جائے اور دوسرے یہ کہ سفر کی سہولتوں کے لحاظ سے ساری دنیا ایک برا دری بن جائے۔