خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 149
خطبات ناصر جلد دہم ۱۴۹ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء ہیں جن کا خلافت اولی یا ثانیہ یا ثالثہ یا رابعہ یعنی اسلام کی نشاۃ اولی کے زمانہ کے ساتھ تعلق تھا۔مثلاً کسی بشارت کا تعلق خلافت اولی کے ساتھ تھا کسی کا خلافت ثانیہ کے ساتھ تھا علی ہذا القیاس کسی کا تعلق بعد کے زمانے کے ساتھ تھا اور یہ بشارتیں اپنے اپنے وقت پر پوری ہوتی رہیں۔تاہم بعض ایسی بشارتیں ہیں اور ان میں سے بعض بہت زبردست بشارتیں ہیں جن کا تعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم تر روحانی فرزند حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہے۔مثلاً یہ بشارت جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں بھی ہے کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ یعنی اس کے ذریعہ اسلام کو ایک عالمگیر غلبہ عطا کیا جائے گا۔اسلام کی نشاۃ اولی کے وقت ایسے ذرائع اور سامان میسر نہیں تھے کہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جاتا۔اسی واسطے ہم نے یہ محاورہ ایجاد کیا ہے کہ اس وقت اسلام معروف دنیا میں پھیلا۔کیونکہ اس نقطہ نگاہ سے اس وقت کے حالات کے مطابق دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔یعنی ایک معروف دنیا اور ایک غیر معروف دنیا۔مگر اب ہمارے زمانے میں معروف دنیا تو ہے لیکن غیر معروف دنیا کوئی نہیں۔اب دنیا میں کوئی ایسا غیر معروف علاقہ نہیں جہاں آبادی تو ہولیکن وہ انسان کے علم میں نہ ہو۔پس ليظهرةُ عَلَى الدِّينِ حُلیہ کی رو سے اس عالمگیر غلبہ کی بشارت اسلام کی نشاۃ اولی کے زمانہ میں پوری ہو ہی نہیں سکتی تھی۔اس کا تعلق تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ یعنی مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ ہے۔اس کا تعلق تو بنی نوع انسان کے دل میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک عالمگیر محبت پیدا ہو جانے سے ہے اور اس کا تعلق تو خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک عالمگیر عشق سے ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلام کا عالمگیر غلبہ ممکن ہی نہیں۔لیکن ہمارے اس زمانے سے پہلے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک عالمگیر محبت اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے ایک عالمگیر عشق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق اسلامی تعلیم جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کی ہے۔وہ ساری دنیا میں پہنچتی ہی نہیں تھی۔غرض دنیا کے ان باشندوں کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کیسے پیدا ہوسکتی تھی۔جہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں پہنچا