خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 148
خطبات ناصر جلد دہم ۱۴۸ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء تاہم بعض بشارتیں اپنی حقیقت کے لحاظ سے ایسی ہیں کہ جو شروع دن سے ہمیں جلوہ گر نظر آتی ہیں اور ہر زمانہ اور ہر صدی میں ان بشارتوں کے مطابق ہم اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے جلوے دیکھتے رہے ہیں جب کہ بعض بشارتیں معین اور مخصوص وقت سے تعلق رکھتی ہیں۔مومنانہ ذمہ داریوں کو نباہنے پر اللہ تعالیٰ کی نصرت کا نازل ہونا ہر زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور یہ سلسلہ صرف پہلی صدی سے یا پہلے سال ہی سے نہیں بلکہ پہلے دن سے شروع ہوا اور آخری وقت تک جاری رہے گا یعنی اگر اس دنیا کی زندگی دو لاکھ سال بعد ختم ہونی ہے یا دس ہزار سال بعد ختم ہونی ہے یا دو تین ہزار سال بعد ختم ہونی ہے تو اس خاتمہ کے آخری گھنٹے میں بھی اگر ایک آدمی اپنی مومنانہ ذمہ داریوں کو نبا ہے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرے گا۔پس ایک تو اس نوعیت کی بشارتیں ہیں کہ جن کا کسی خاص زمانہ یا وقت یا صدی یا سال یا مهینه یا دن کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ مستقل بشارتیں ہوتی ہیں جن کا ہر زمانے اور ہر ملک کے ساتھ تعلق ہوتا ہے لیکن بعض بشارتیں مخصوص اور معین وقت کے لئے ہوتی ہیں مثلاً ایک آدمی سے یہ کہنا کہ میں تیرے ہاتھ میں کسری کے کنگن دیکھتا ہوں یا یہ کہنا کہ کسریٰ کے ملک پر غلبہ عطا ہوگا یا قیصر روم اسلام کے ہاتھوں مغلوب ہوگا۔چنانچہ اپنے وقت پر یہ بشارتیں پوری ہوئیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ان دونوں بڑی طاقتوں کا زور قریباً ٹوٹ چکا تھا۔البتہ کہیں کہیں ان کے آثار باقی رہ گئے تھے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ قومیں باقی رہ گئی تھیں۔ایران کی فتوحات کی ابتدا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی اور اس کے بعد قریباً اسی زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری زمانہ میں قیصر روم کے ساتھ خود قیصر کی نالائقیوں کی وجہ سے جنگ کے آثار پیدا ہو گئے تھے اور کچھ جھڑ پیں بھی شروع ہو گئی تھیں لیکن ان کے ساتھ بڑی بڑی لڑائیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لڑی گئیں۔بہر حال یہ جنگیں ایک خاص زمانہ کے اندر رونما ہو ئیں۔پھر جب تک خدا تعالیٰ نے چاہا اسلام ان کے اوپر حاکم رہا اور اب بھی ان علاقوں پر حاکم ہے۔غرض اس وقت کی معروف دنیا پر اسلام پھیلا اور اس طرح یہ ایک بشارت تھی جو پوری ہوئی۔البتہ اس قسم کی کچھ بشارتیں ایسی بھی