خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 130 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 130

خطبات ناصر جلد دہم الله۔خطبہ عید الاضحیہ ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء والی کہ جو بے مثل ہیں۔یہ انہی ابراہیمی دعاؤں کا نتیجہ تھا اور ابراہیم علیہ السلام کو اور ان کے خاندان کو جب وقف میں لیا گیا تو ان کے ذمہ ڈیوٹی یہی تھی۔کام یہی تھا کہ تم نسلاً بعد نسل قریباً اڑھائی ہزار سال تک اس دعا میں لگے رہو کہ تمہاری قوم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور اسلام کی ذمہ داریوں کو نباہنے والی ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خانہ کعبہ کی بنیاد کے جو مقاصد تھے وہ کم و بیش اٹھارہ ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائے ہیں اور ان مقاصد کو پورا کرنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اگلے خطبوں میں میں انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تفصیل سے یہ مضمون بیان کروں گا اور پھر اس مقام تک پہنچوں گا جس کی طرف میں پہلے اشارۃ ذکر کر آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑے اہم معاملہ کی طرف میری توجہ کو پھیرا ہے اور میرا افرض ہے کہ میں آپ دوستوں کے سامنے اس کو بیان کروں اور آپ کا پھر فرض ہوگا کہ آپ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے وہ عظیم جدوجہد اور قربانی خدا تعالیٰ کے حضور پیش کریں جس کی طرف اللہ تعالیٰ آپ کو بلا رہا ہے اور جس کے نمونے آپ کے سامنے ہیں جن میں سے ایک نمونہ کی طرف آج میں نے اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۸ را پریل ۱۹۶۷ ء صفحه ۲ تا ۴ )