خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 129

خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۹ خطبہ عید الاضحیہ ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء ایک روحانی خاندان اور پھر قوم کو تیار کر دینا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے اور دعائیں کرتے رہنا۔چونکہ استعداد کے باوجود بھی ناکامی ہو جاتی ہے اس لئے اڑھائی ہزار سال تک اللہ تعالیٰ نے یہ دعا کروائی اس خاندان اور اس قوم سے کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں تو وہ خاندان ( جو ایک قوم بن گیا تھا اس لمبے زمانہ میں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کوسن کر اس پر لبیک کہیں۔چنانچہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے تو اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک ایسا دور بھی آپ کی زندگی میں پیدا کیا جو خالصہ قربانی کا دور تھا مکی زندگی جس کا ایک ایک سانس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان سانسوں کے مقابلہ میں تھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر تھا جب آپ کے جلانے کے لئے آگ کو تیار کیا گیا تھا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس زمانہ سے زیادہ شان دار تھا جب وہ اس وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ دیئے گئے تھے۔وہ ایک طرح کی موت تھی جو ان کے سامنے تھی۔گو انہیں اس وقت اس کا احساس نہ تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو احساس بھی تھا اور دوہرا احساس تھا۔ایک تو اپنی قوم کی ایذائیں تھیں۔مصیبت تو خدا کے لئے خدا کے بندے برداشت کرتے ہی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ قربانی اتنی نہیں تھی جتنی یہ قربانی تھی کہ آپ دیکھ رہے تھے کہ جس قوم کی ہدایت اور جس دنیا کی راہ نمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے وہ مجھے ٹھکرا رہی ہے۔کیا بنے گا اس قوم کا اور کیا بنے گا دنیا کا اگر یہ باز نہ آئے اپنی حرکات سے۔یہ سوچ کر آپ کے دل اور آپ کی روح نے جوقربانی دی ہے اس کا مقابلہ کوئی اور قربانی نہیں کر سکتی لیکن اس کے بعد یکدم حالات نے پلٹا کھایا اور وہی جو آپ کے دشمن تھے آپ کے دوست بنے۔آپ کے فدائی بنے۔آپ کے ذرا ذرا سے دکھ پر اپنی جانوں کو قربان کرنے والے بنے۔اسلام کی خاطر اپنوں کو اور اپنے علاقہ کو چھوڑ کر ساری دنیا میں پھیل کر خدائے واحد کا نام دنیا میں پھیلانے والے بنے۔دنیا میں ایسی قربانی دینے والے بنے کہ جن قربانیوں کی مثال پہلے کسی نبی کی امت میں نہیں ملتی۔یہ استعداد جو اس قوم میں پیدا ہوئی کہ جب تک سوئی رہی فتنہ عظیمہ کا باعث اور جب بیدار ہوئی تو اتنی شاندار قربانیاں دینے