خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 128
خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۸ خطبہ عید الاضحیہ ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء ہماری اس قربانی کو تو قبول کر لے۔پھر اپنی نسل کے لئے دعا کرتے رہو وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ لك (البقرة : ۱۲۹) کہ جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں تو میری یہ ذریت اور نسل آپ کو مان لے اور قبول کر لے اور ان ذمہ داریوں کو نباہنے کے لئے تیار ہو جائے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کندھوں پر ڈالیں۔ان کو امت مسلمہ بنائیں۔اس وقت ان سے کوئی غفلت کوئی غلطی یا کوتا ہی سرزد نہ ہو۔پھر اس خاندان نے اتنا شاندار نمونہ دکھایا ہے کہ اگر اس اڑھائی ہزار سالہ تاریخ پر آپ نگاہ ڈالیں تو ان میں سے کم ہی خاندان ایسے ہوں گے جو عرب سے باہر نکلے ہوں حالانکہ ان کی ہمسائیگی میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہو چکی تھیں اور وہ بڑے ذہین لوگ تھے اور بڑی فراست اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی تھی اور قربانی کرنے والے فطرتا لیڈر ہوتے ہیں اور قیادت کی استعداد ان کے اندر ہوتی ہے۔اگر وہ ان بادشاہوں کے دربار میں جاتے تو بڑے ہی دنیوی فوائد اٹھا لیتے لیکن صرف اکا دُکا عرب باہر نکلے اور انہوں نے بھی اپنا تعلق مکہ سے قائم رکھا ہے تو لگا تا راڑھائی ہزار سال تک قربانی دیتے چلے جانا نسلاً بعد نسل کوئی معمولی چیز نہیں ہے اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بڑی ہی قربانیاں دینی پڑیں اپنے ماحول کو مطہر ، پاک اور مصفا بنانے کے لئے اور بڑی ہی دعائیں کرنی پڑیں اپنے رب کے حضور۔اگر وہ دعائیں نہ ہوتیں تو یہ قوم اس قسم کی تربیت حاصل نہ کر سکتی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان سے قربانی کلی ایک بے آب و گیاہ مقام کے اوپر آباد ہو جانے کی۔دنیا سے تمام علائق کو توڑ دینے کی اور ان کے ذمہ یہ لگایا گیا تھا کہ بیت اللہ کی صفائی ، پاکیزگی اور طہارت کا ابھی سے انتظام کرو۔کیونکہ میں رَبُّ العلمين محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی طرف مبعوث کرنے والا ہوں اور اپنے خاندان میں یہ وصیت کرتے چلے جاؤ کہ وہ بھی وقف کے اس سبق کو بھولیں نہ اور ساری قوم کوشش میں لگی رہے اس بات کے لئے کہ آئندہ نسلیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ذمہ داری صرف یہ تھی خانہ کعبہ کی حفاظت اس کی پاکیزگی کا انتظام کرنا، جو لوگ خانہ کعبہ میں آئیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خدائے واحد کی عبادت کے لئے ان کی خدمت میں لگے رہنا اور اس میں اپنا فخر سمجھنا اور اس طرح