خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 120
خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۰ خطبہ عیدالاضحیہ ۱/۲ پریل ۱۹۶۶ء بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ تک آپ عاجزی اور انکسار کے ساتھ اپنے خدا کے حضور جھکتے رہے اور نیک اور صالح اور توحید پر قائم رہنے والی نسل کے لئے دعا کرتے رہے لیکن اتنے لمبے عرصہ تک ان دعاؤں کا بظاہر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔آخر جب آپ کی عمر چھیاسی برس کی ہوگئی۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو قبول کیا اور آپ کے ہاں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے بطن سے حضرت اسمعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔آپ کی دعا یہی تھی کہ آپ کو ایسے بچے عطا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے سامنے اسی طرح اپنی گردنیں رکھ دیں جس طرح باقی جانوروں کی گردنیں چھری کے نیچے رکھی جاتی ہیں اور چونکہ آپ اپنے عہد میں پختہ اور اپنی نیت میں مخلص تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ ایک نمونہ قائم کرنا چاہا۔بڑھاپے کی عمر ( چھیا سی سال کی عمر ) میں آپ کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا جس غرض کے لئے اس بچہ کی خواہش کی گئی تھی۔اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام بھولے نہیں تھے۔بلکہ پہلے دن سے ہی آپ نے اپنے اس بچے کی تربیت ایسے رنگ میں شروع کی کہ اس نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف سمجھی اور جب ذبح عظیم کا وقت آیا یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک انتہائی قربانی آپ سے لینی چاہی۔تا دنیا کے لئے اور خصوصاً آپ کی نسل کے لئے ایک بے مثال نمونہ قائم ہو جائے۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس بچے ( یعنی حضرت اسمعیل علیہ السلام ) نے جس کی عمر کم و بیش تیرہ، چودہ سال کی تھی۔ایک سیکنڈ کی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے یہ قربانی لی کہ آپ اپنے اس بچہ کو ایک وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آئیں اور بتایا کہ اس کی تربیت ہم خود کریں گے۔تاکئی ہزار سال بعد جب دنیا میں ایک اُمّی اور معصوم نبی پیدا ہو۔تو دنیا یہ اعتراض نہ کر سکے کہ ایک اُمّی خدا تعالیٰ کی تربیت کیسے حاصل کر سکتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اس پر کامل تو کل کرتے ہوئے اپنے اکلوتے بچے کو ایک ایسے مقام پر چھوڑ دیا۔جو اس وقت کلیۂ غیر آبا دتھا۔بلکہ اس وقت آبادی کے قابل بھی نہیں تھا کیونکہ وہاں پانی نہیں تھا اور بظاہر حالات اس جگہ دونوں ماں بیٹے ( یعنی حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام) کا زندہ رہنا ناممکن تھا۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں ذرا بھر بھی خیال نہیں تھا کہ اس ماحول میں