خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 119
خطبات ناصر جلد دہم ۱۱۹ خطبہ عیدالاضحیہ ۱/۲ پریل ۱۹۶۶ء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان نے وقف اور وفاداری کی زندہ مثال قائم کی ہے خطبہ عیدالاضحیه فرموده ۲ را پریل ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔یہ عید جو آج ہم منا رہے ہیں۔عید الاضحیہ کہلاتی ہے۔صرف اس لئے نہیں کہ آج کے روز بکروں، بھیڑوں ، دنبوں، گائے اور اونٹ کی قربانی کی جاتی ہے۔بلکہ زیادہ تر اس لئے کہ یہ عید ایک اسوہ حسنہ کو دوام بخشنے کے لئے قائم کی گئی ہے اور وہ اسوہ حسنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے خاندان کا ہے۔جو انہوں نے کئی ہزار سال پہلے دنیا کے سامنے رکھا اور اسے دنیا میں قائم کیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک مشرک قوم میں پیدا ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت آپ کے دل میں پیدا کر دی۔اس لئے آپ شرک سے کلیۂ بیزار ہوکر تو حید پر قائم ہو گئے تھے۔اپنی قوم کو بھی تو حید کی طرف بلاتے تھے۔گو قوم آپ کی باتوں کی طرف دھیان نہیں دیتی تھی۔آپ کے دل میں بڑی شدید خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نیک اور صالح اولا د عطا کرے تا اس کے ذریعہ توحید پر قائم رہنے والی ایک جماعت قائم ہو جائے۔آپ نے اس کے لئے بہت دعا کی۔مگر ایک لمبے عرصہ تک اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو قبول نہیں کیا بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ پچاس سال