خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 117
خطبات ناصر جلد دہم ۱۱۷ خطبہ عیدالفطر ۲/اگست ۱۹۸۱ء اور عید الفطر کے درمیان گز را بیشمار رحمتیں کیں۔تعداد لاکھوں میں بڑھ گئی اور مساجد جو ہیں وہ درجنوں تعمیر ہو گئیں۔ہر مہینے کوئی نہ کوئی نئی مسجد بن رہی ہے ایک سے زیادہ بن رہی ہیں اور اپنے خرچ پہ بنارہے ہیں۔آپ کو غیرت دلانے کے لئے ، پاکستانی احمدیوں کو میں نے بتایا تھا پہلے بھی کہ افریقہ بڑی بڑی مسجدیں بناتا ہے اور ایک دھیلا نہیں مرکز سے مانگتا۔پانچ سال لگ جائیں، چھ سال لگ جائیں، سات سال لگ جائیں ، وہ چھوٹی سی جماعت سو کی ، ہزار کی ، دو ہزار کی اپنی ہمت کے مطابق مسجد بنا رہی ہوتی ہے۔پیسے خود جمع کرتی ہے، کرتی چلی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ بناتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اپنی محنت کی کمائی کو خدا کی عطا سمجھتے ہوئے اس کے حضور پیش کرتے اور خدا تعالیٰ کا گھر بنا دیتے ہیں اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ (الجن : ۱۹ )۔تو ہم آج اس لئے خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا کہ خوش ہو۔ہم اس لئے خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ جن سے میں پیار کرتا ہوں اس کا اظہار بھی کرتا ہوں اور پیار کا اظہار ایک نہیں، پیار کے ایک ہزار اظہار بھی نہیں ، سال کے دوران میں سمجھتا ہوں لاکھوں پیار کے اظہار ہوئے۔باہر کے مبلغ ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے احمدیت سے باہر ، دنیوی لحاظ سے لیکن خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو اتنی عزت دی ہے اپنی نگاہ میں اور اس کے نتیجہ میں نوع انسانی کے دل میں عزت قائم کی ہے کہ ہمارے مبلغ جو یہاں سڑکوں پر پھر رہے ہوں ، تو آپ پہچانتے نہیں کون پھر رہا ہے، جب افریقہ میں ہوں یا دوسرے ممالک میں ہوں تو سر براہ مملکت بھی کھڑا ہو جاتا ہے جب وہ کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ان مبلغین کو بھی یہ مجھنا چاہیے کہ یہ ان کی ذاتی عزت نہیں ، یہ ان کی عزت طفیلی عزت ہے اور انہیں ملی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل۔پس کثرت سے درود کیا کرو، کثرت سے خدا کی حمد کیا کرو اور اس کی توحید کے نغمے اس کی حمد کے ترانے گاؤ اور خوش ہو اس لئے نہیں کہ ہماری طاقت یا کوشش یا عمل کا کوئی نتیجہ نکلا بلکہ اس لئے کہ ہمارے حقیر اعمال کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور ہمارے لئے عید اور خوشی کا سامان پیدا کر دیا۔خدا کرے کہ ہمیشہ ہی ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشی کے سامان پیدا ہوتے