خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 99
خطبات ناصر جلد دہم ٩٩ خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء دنیا نہ ہو پھر تو Total Loss ہو گیا نا۔لیکن اگر مرنے کے بعد بھی دنیا ہے اور خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں اور وہ زندگی اس سے ہزار درجہ بلکہ کروڑ درجہ بلکہ بے شمار درجہ زیادہ حسین اور زیادہ اچھی اور زیادہ سکھ والی ، زیادہ پیار والی، زیادہ سرور اور لذتوں والی ہے تو کسی کو کوئی نقصان نہیں۔لیکن وہ بھی بہت کم لیا اور دنیا حیران ہوگئی یہ ہو کیا رہا ہے۔بعد میں اس وقت کی حکومت بڑے بڑے پھنے خاں ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ بات کیا ہوئی ہم نے تو ان کو مار کر پھینک دیا تھا پر لی طرف۔لیکن ان کے اوپر اثر ہی کوئی نہیں اور حکومت کے اسی طرح وفادار۔ایک دوست اپنے ساتھی وزیر سے کہنے لگے اگر تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جا تا تو کیا تم ملک کے وفادار رہتے۔وہ کہنے لگا بالکل نہ رہتا، یہ احمدی پتہ نہیں کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ہم نے تمہاری خاطر تو تم سے وفا نہیں کرنی۔ہمیں تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ جس ملک میں رہو اس سے خیر خواہی کرو، ہر انسان سے پیار اور محبت کا سلوک کرو، کسی کو دکھ نہ پہنچاؤ ، اپنی دعاؤں کے ساتھ اور جتنی تم میں ہمت اور طاقت ہے اس کے ساتھ دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ہمارے خدا نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے۔ہم اپنے خدا کی خاطر ساری دنیا کے دکھ سہہ لیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے کے لئے تیار نہیں۔اس لئے اس قسم کے حالات پیدا ہوتے ہیں تو پھر عید کا سماں ہمارے لئے پیدا ہو جاتا ہے پھر اور حالات پیدا ہوتے ہیں پھر اور عید۔پارٹیشن ہوئی ۱۹۴۷ء میں تو جو لوگ اس آگ میں سے گزرے ہیں وہی جانتے ہیں کہ کیا ہوالیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر تھی۔ہجرت کرنی تھی وہ ہجرت کی۔چھوڑ دیا وہاں اپنا سارا کچھ۔کیا ہیں دنیا کے مال، یہ تو کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔اصل تو خدا تعالیٰ کے خزانے ہیں جو خالی نہیں ہوتے وہ پھر دے دیتا ہے۔تو سب کچھ چھوڑ کر آ گئے تھے۔خدا تعالیٰ نے سب کچھ دے دیا۔جن احمد یوں سے خدا تعالیٰ نے ۱۹۴۷ء میں قریباً ہر چیز کی قربانی لے لی تھی ان کو پھر سے ہر چیز دے دی اور وہ گھاٹے میں نہیں رہے اور توفیق دی یہ کہ وہاں ایک بھا مبری گاؤں تھا۔وہ ہماری بڑی مخالفت کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ جلسہ کے موقع پر حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور سید زین العابدین صاحب وہاں گئے ہوئے تھے ان کو بھی مار پڑ گئی تھی۔اس قسم کی حرکتیں وہ گاؤں کیا کرتا تھا اور ۱۹۴۷ء میں