خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 96
خطبات ناصر جلد دہم ۹۶ خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء ٹھہرے ہوئے تھے ) مخالفین نے اوباش نوجوانوں کو بھیجا اور ان شیروں نے جو کئی سو کی تعداد میں تھے ان بارہ آدمیوں پر حملہ کیا۔باہر کی دیوار توڑی اندر داخل ہو گئے اور جو دوسرا دروازہ تھا اندر کی چار دیواری کا اس کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے تو کوئی الہی تدبیر ہوئی ہمیں نہیں پتہ کیا ہوئی لیکن وہ لوگ وہاں سے بھاگ گئے۔ادھر علماء نے شور مچادیا کہ وقت پر مناظرہ کے لئے نہیں پہنچے۔تم نے حفظ امن کی ذمہ داری لی تھی، گھر پر حملہ کر واد یا تو آتے کیسے؟ پس یہ بھی عید کا دن تھا ا اور عید کا دن اس طرح بنا کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ انہوں نے وعدہ کیا اور پورانہیں کیا۔اب ہم تجھے کہتے ہیں کہ تو ہماری حفاظت میں ہے۔تجھے ہماری عصمت حاصل ہے۔اس لئے ان سے کہو تم جہاں کہتے ہو میں اپنی ذمہ داری پر وہاں آ جاتا ہوں انہوں نے کہا جا مع مسجد دہلی میں آجائیں۔چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے۔کچھ لوگ دہلی کے شرفاء تھے وہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ صرف شرارت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔وہ بھی وہاں پہنچے اور بغیر کہے حکومت نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے انگریز ایس پی کو بھیجاوہ پولیس لے کر پہنچ گیا انتظام کرنے کے لئے۔آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور وہ باہر پھر رہے تھے اور جھگڑا کیا اور شرائط نہ مانیں۔آخر دہلی کے جو غیر احمدی رؤسا تھے انہوں نے کہا۔یا حضرت! یہ تو شرارت کر رہے ہیں۔انہوں نے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔کافی دیر ہوگئی ہے، آپ چلیں تو انہوں نے حملہ کیا۔(سید نا حضرت اقدس ) اپنے سارے ساتھیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آرام سے گھر آگئے لیکن کچھ لوگ زخمی ہوئے ان کی شرارتوں سے اور پتھراؤ سے اور وہ زخمی ہونے والے پولیس والے تھے جو وہاں امن قائم کرنے کے لئے گئے تھے۔(حضرت اقدس ) اور آپ کے ساتھیوں کو خراش تک نہ آئی اور آرام سے گھر واپس آگئے کیونکہ خدا نے فرمایا تھا کہ میں تمہاری حفاظت کرنے والا ہوں ، جاؤ جہاں یہ کہتے ہیں تو چلے گئے دلیری کے ساتھ۔پہلے بھی آپ نے کوئی پرواہ نہیں کی ہوگی۔پس یہ خدا تعالیٰ کے انبیاء اور خدا تعالیٰ کے پیاروں کی شان ہوتی ہے اور ان کی جماعتوں کی بھی کہ وہ ڈرتے کسی سے نہیں۔خدا تعالیٰ ان کی حفاظت کرتا ہے۔حضرت مصلح موعود ( نور اللہ مرقدہ) کو جو جلسہ مصلح موعود ۱۹۴۴ء میں دہلی میں ہوا تھا اس