خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 80

خطبات ناصر جلد دہم ۸۰ خطبہ عیدالفطر ۷ را کتوبر ۱۹۷۵ء لیکن یہ افضال و انعامات پانے کے لئے صحابہ رضی اللہ عنہم والا اخلاص، صحابہ رضی اللہ عنہم والی فدائیت اور صحابہ رضی اللہ عنہم والی قربانیاں ضروری ہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم قربانیاں تو پیش نہ کریں اور پھر بھی صحابہ رضی اللہ عنہم والے انعامات ہمیں مل جائیں۔ہر ایک جو خدائی افضال وانعامات کا وارث بننا چاہتا ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے۔ہر ایک کو اپنے خاندان، اپنے علاقے اور نوع انسان کے لئے ایثار دکھانا پڑتا ہے اور اس کے لئے وہ نور حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حاصل کیا تھا۔جتنی روشن شاہراہ اسلام کے غلبہ کی ہمارے سامنے خدا نے رکھی ہے اتنی ہی روشن شاہراہ اسلام کی نشاۃ اولی میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے رکھی گئی تھی۔اگر ہمارے بچے اور ہمارے نو جوان اس حقیقت کو پہچان لیں اور اس کے مطابق اعمال بجالائیں تو انہیں اللہ تعالیٰ کا ایسا پیار حاصل ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔آخر میں حضور انور نے خاص طور پر احباب انگلستان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :۔گوٹن برگ میں خدا کا گھر بنانے کی جو عید ہمارے لئے پیدا ہوئی ہے اس کے تعلق میں آپ کے لئے دوہری خوشی کا موقع ہے۔وہاں میں نے اعلان کیا تھا کہ یورپ اور امریکہ کے پانچ ملکوں کی جماعتہائے احمد یہ اس کا خرچ برداشت کریں گی۔ان میں سے زیادہ بوجھ آپ نے ہی اٹھانا ہے۔صد سالہ احمد یہ جو بلی کے آپ کے اسی ہزار پاؤنڈ کے وعدے دوسال کے اندراندر پورے ہو جانے چاہئیں۔اسی طرح ناروے کی جماعت سے میں نے کہا ہے کہ ۱۹۷۸ء میں وہ مسجد بنا ئیں۔اس کا بار بھی بڑی حد تک انگلستان کی جماعت کو ہی اٹھانا ہوگا۔لہذا آپ کے لئے تو دو ہری خوشی کا موقع ہے۔اللہ تعالیٰ اس عید کو آپ کے لئے دوہرے طور پر مبارک کرے اور برکت کے سامان آپ کے لئے پیدا کرے۔آمین اس روح پرور اور بصیرت افروز خطبہ کے بعد حضور انور نے اجتماعی دعا کرائی۔جس میں جملہ حاضر ا حباب جن کی تعداد تین ہزار سے او پر تھی شریک ہوئے۔روزنامه الفضل ربوه ۳/نومبر ۱۹۷۵ ء صفحه ۲و۶) ☐☐☐