خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 66
خطبات ناصر جلد دہم ۶۶ خطبہ عید الفطر ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۳ء مُسکراہٹیں اور بشاشت اور مسرت کے جذبات اُن کے جسم کی نس نس اور روئیں روئیں سے نکل رہے ہوتے ہیں۔ان کا منبع خدائے قادر مطلق اور قادر و توانا کی ذات ہے۔اس کے مقابلہ میں جو ابتلا اور امتحان ہیں اُن کا منبع بھی الہی منشا سے ہے۔یہ تو درست ہے لیکن ان کا تعلق ایک لحاظ سے خدا تعالیٰ کی اس مخلوق سے ہے جن کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ اے خدا! ان پر بھی فضل فرما۔کیونکہ یہ جو حرکتیں کر رہے ہیں اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ سمجھتے نہیں۔نہ یہ اپنا مقام پہچانتے ہیں نہ ان کو اسلام کی عظمت کا خیال ہے اور نہ ہی مہدی معہود علیہ السلام کی شان کو پہچانتے ہیں حالانکہ مہدی معہود علیہ السلام ساری اُمت مسلمہ میں سے وہ فرد واحد ہے جس پر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سلام بھیجا مگر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اس کے مقام کو نہیں پہچانتے۔بایں ہمہ ہم اُن کے لئے دُعا کرتے ہیں کہ اے خدا ! جس طرح تو ہمارے لئے یہاں دنیوی جنتوں کے سامان بھی پیدا کر رہا ہے اسی طرح تو ہمارے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی دُنیوی جنتوں کے سامان پیدا کرتا کہ پھر اُن کے لئے اُخروی جنتوں کے سامان بھی پیدا ہو جا ئیں۔پس ہمارے چہرے تو ہر وقت مسکرانے والے چہرے ہیں۔ہمارے چہروں کی مسکراہٹوں کو چھینے والا کسی ماں نے کوئی بچہ نہیں جنا اس لئے کہ ہمارے کان میں ہر لحظہ خدا کے پیار کی آواز پڑتی ہے۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس صبح صادق کی روشنی کو دیکھنے اور پہچاننے کی توفیق عطا فرمائی جو اسلام کے آخری غلبہ کے لئے مقدر تھی۔پس جس شخص کو ابدی ٹور کی کرنیں میتر آجائیں، وہ اندھیروں اور ظلمتوں سے ڈرا نہیں کرتا کیونکہ وہ تو خود ایک روشن مینار بن جاتا ہے۔روشن مینار کے گرد ظلمات نہیں آیا کرتے۔نہ اندھیروں کی یلغار جو کبھی منہ ( زبان ) کے اندھیروں کی کبھی ہاتھ کے اندھیروں کی اور کبھی ظالمانہ منصوبوں کے اندھیروں کا رُوپ دھار لیتی ہے۔وہ ٹور کے میناروں کے گرد جو ٹور کی فضا ہوتی ہے اس کو دُور نہیں کر سکتی بلکہ یہ اندھیرے قریب آنے کی کوشش کرتے اور بھاگ جاتے ہیں۔اس لئے ہمارے چہرے اس آیت کریمہ کے مطابق آج بھی عید کی اس ظاہری علامت کے طور پر مُسْفِرَةٌ یعنی رُوحانی مسرتوں سے روشن ہیں۔ہم ہنستے اور مُسکراتے ہیں ہم خوش و خرم ہیں۔اس لئے کہ ہمیں اپنے رب کریم کا پیار ملا۔ہمیں یہ یقین دلا یا گیا