خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 67 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 67

خطبات ناصر جلد دہم ۶۷ خطبہ عیدالفطر ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۳ء ہے کہ اسلام کے غلبہ کا زمانہ آ گیا۔ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تمام بشارتیں جو امت مسلمہ کو یہ کہہ کر دی گئی تھیں کہ ایک جماعت پیدا ہو گی جس کے ذریعہ اسلام ساری دُنیا میں غالب آئے گا ، اُن کے پورے ہونے کا وقت آ گیا۔ہم خدا کے عاجز بندے ہیں۔ہم کمزور اور گنہگار بندے ہیں۔ہم ذرہ ناچیز سے بھی ناچیز ہیں مگر خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اُس نے اپنی حکمت کا ملہ سے غلبہ اسلام کی عظیم مہم کے لئے ہمیں چنا۔ہمارے دل اس کی حمد سے لبریز ہیں۔ہماری ہر قوت اور ہماری ہر شئی (جس کے ہم مالک ہیں اُسی کے فضل سے ) اس کی راہ میں قربان ہونے کے لئے ہر وقت تیار ہے پس یہ قوم وہ قوم ہے جو ہنستے مسکراتے عید میں مناتے شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جانے والی ہے اس لئے اے خدا کی پیاری قوم ! خدا تیرے لئے اس عید کو اور اس کے بعد بھی ہر آنے والی عید کو مبارک کرے اور اپنے پیار کو تیرے لئے زیادہ سے زیادہ مقدر کرے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اب ہم دُعا کریں گے۔سب دوست دُعا میں شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ ان وعدوں کو جو ہمیں دیئے گئے ہیں، ہماری زندگیوں میں پورا ہونے کے زیادہ سے زیادہ سامان پیدا کرے۔اسلام کے عالمگیر غلبہ کی خوشیاں ہی ہمارے لئے حقیقی خوشیاں ہیں۔اُن سے ہم اور ہماری آنے والی نسلیں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے والی ہوں۔اسی طرح ہمارے خاندان نسلاً بعد نسل خدا کی راہ میں قربانیاں دینے والے اور اس کے پیار کو پانے والے ہوں۔آؤ دُعا کر لیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ فروری ۱۹۷۴ ، صفحه ۲ تا ۴)