خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 65
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عید الفطر ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۳ء گویا اس دنیوی جنت میں اللہ تعالیٰ کبھی اموال واپس لے کر آزمائش کرتا ہے۔کبھی ( قرآن کریم کہتا ہے ) دوسروں کی زبانیں تمہارے لئے ایذارسانی کے سامان پیدا کریں گی کبھی اسلام کہتا ہے تمہارا امتحان تمہارے خونوں کی قربانی سے لیا جائے گا۔کبھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہارے جذبات کو ابتلا میں ڈال کر تمہارا امتحان لیں گے۔کبھی کہتا ہے کہ تمہیں اپنے بیوی اور بچوں کی قربانی دے کر میرے امتحان پر پورا اترنا ہو گا۔کبھی کہتا ہے تمہاری دولتیں چھین لی جائیں گی لیکن تمہارے چہروں کی مسکراہٹیں نہیں چھینی جاسکیں گی۔کبھی کہتا ہے تمہیں یہ قربانی دینی پڑے گی اور کبھی قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایک دوسری قسم کی قربانی دینی پڑے گی مگر ان ساری قربانیوں کے باوجود، ان سب ابتلاؤں اور امتحانوں کے ہوتے ہوئے اس دنیوی زندگی کو جنت کہا گیا ہے اور یہ ایک سوچنے والی بات ہے ایک مومن تو اسے جنت محسوس کرتا ہے کیونکہ یہ سارے ابتلا اور امتحان اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو اور بھی تیز کرنے والے ہیں۔جس شخص کے دل میں یہ یقین ہو کہ وہ اپنے رب کریم سے اس کی رضا اور پیار کو حاصل کر رہا ہے وہ ان ابتلاؤں اور ان امتحانوں اور ان قربانیوں کو کوئی چیز ہی نہیں سمجھتا وہ ان کو اپنی راہ کے کانٹے نہیں سمجھتا بلکہ وہ ان کو اپنے راستے کے پھول پاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے بڑے حسین جلوے اس پر ظاہر ہوتے ہیں اسی لئے جو الفاظ اس جنت کے متعلق کہے گئے ہیں جو اس زندگی کے بعد آنے والی ہے، قرآنِ عظیم میں وہی الفاظ اس دنیوی زندگی کی جنت کے متعلق بھی کہے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔وُجُوهٌ يَوْمَبِنٍ مُسْفِرَةٌ - ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ (عبس :۴۰،۳۹) یعنی کچھ چہرے رُوحانی مسرتوں سے اس دن روشن ہوں گے۔ہنستے مسکراتے اور خوش و خرم ہوں گے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص کے دل میں ایمان کی بشاشت پیدا ہو جائے اس کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور اصل مسرت اور بشاشت تو دلوں میں پیدا ہوتی اور چہروں سے ظاہر ہوتی ہے اسی لئے جماعت احمدیہ کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ دُنیا جس طرح چاہے اُن کا امتحان لے لے، وہ اُن کے چہروں کی مسکراہٹیں اُن سے نہیں چھین سکتی۔یہ دنیا کی طاقت میں نہیں۔اس لئے کہ احمدیوں کے چہروں کی