خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 851 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 851

خطبات ناصر جلد دہم ۸۵۱ خطبہ نکاح ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء آتے ہیں ، میں آپ کا امام اور خلیفہ بھی ہوں نا تو بڑی کوفت ہوتی ہے، جہیز کے اوپر اختلاف ہو گیا۔پھر ضلع لینے کے لئے۔پھر یہ کہ اس نے ہمیں پیسے زیادہ نہیں دیئے۔رشتہ داروں کو جوڑے کوئی نہیں دیئے۔یہ نہیں دیا وہ نہیں دیا۔تمہیں اس وقت سوائے خدا تعالیٰ کے پیار کے اور کچھ نہیں چاہیے۔اس کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اس دنیا میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔اخروی زندگی میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔تو یہ تو جملہ معترضہ تھا۔دوست بھول گئے ہوں گے عبدالمجید خان صاحب ہاں کہہ چکے ہیں اور اب میں اپنی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے ایک ہزار روپے مہر پر اپنا نکاح محترمہ طاہرہ صدیقہ سے منظور ہے۔یہ صدیقہ میں نے نام دیا ہے ابھی (حاضرین نے مبارک ہو۔مبارک ہو۔مبارک ہو کہہ کر اپنی عقیدت و محبت اور خوشی کا اظہار کیا ) دوست دعا کر لیں۔اللہ تعالیٰ یہ رشتہ بہت بابرکت کرے۔آمین۔پھر اجتماعی دعا ہوئی اور اس کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ آپ سب کے لئے یہ رشتہ مبارک کرے۔آمین اللهم آمین! روزنامه الفضل ربوه حضرت خلیفتہ المسح الثالث نمبر ۱۲؍ مارچ ۱۹۸۳ صفحه ۱۳ تا ۱۶)